اسلام آباد: ملک کے بالائی علاقوں میں مون سون کے ساتویں اسپیل نے شدید تباہی مچا دی۔ خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بادل پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلے کے باعث اب تک 78 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ متعدد لاپتا ہیں اور کئی مکانات مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہو گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کا سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔
خیبر پختونخوا
صوبے کے مختلف اضلاع جیسے باجوڑ، سوات، بونیر، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلے کے نتیجے میں 60 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں 40 مرد، 8 خواتین اور 12 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 2 خواتین اور 1 بچہ شامل ہے۔بارشوں کے باعث اب تک 35 گھر متاثر ہوئے، جن میں 28 کو جزوی اور 7 مکانات کو مکمل نقصان پہنچا۔ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع باجوڑ اور بٹگرام ہیں، جہاں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
باجوڑ:
تحصیل سلارزئی کے گاؤں جبراڑئی میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں 21 افراد جاں بحق، 3 زخمی اور متعدد لاپتا ہوئے۔ ریسکیو 1122 اور فرنٹیئر کور نارتھ نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے متاثرین تک امداد پہنچائی۔ حادثے میں 4 مکانات تباہ ہوئے۔
سوات:
مالم جبہ روڈ کا ایک حصہ سیلابی ریلے میں بہہ گیا، کئی علاقے زیرِ آب آئے اور مقامی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ منڈا ہیڈ کے قریب دریائے سوات میں پھنسے 15 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔
لوئر دیر:
شدید بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث درجنوں سیاح پھنس گئے، جنہیں ریسکیو 1122 نے محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان
آزاد کشمیر میں بادل پھٹنے کے بعد ندی نالوں میں طغیانی سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد سمیت 8 افراد ہلاک ہوئے۔ شدید بارشوں کے باعث حکومت نے دو روز کے لیے تعلیمی ادارے بند کر دیے۔گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
امدادی کارروائیاں
پاک فوج نے سوات اور باجوڑ میں فلڈ ریلیف آپریشنز کا آغاز کیا، سیلاب زدگان کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا اور راشن و ادویات کی فراہمی کی گئی۔ پی ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو سیاحتی مقامات اور بند سڑکوں کی بحالی اور ریلیف کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔