انٹرنیٹ کے دور میں بلاگرز اور انفلوئنسرز کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، لیکن اس طرزِ زندگی کے کچھ منفی پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں۔
بھارتی انفلوئنسر اور کانٹینٹ کریٹر ہیمادری پٹیل نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے پیشے کی وجہ سے کئی رشتے ختم ہو چکے ہیں، اور پسندیدہ لڑکے بھی انہیں چھوڑ گئے۔ہیمادری پٹیل نے اپنی یوٹیوب ویڈیو میں بتایا کہ وہ مختلف ڈیٹنگ تجربات سے گزری ہیں، لیکن ہر بار انہیں یہ کہہ کر مسترد کیا گیا کہ ان کی زندگی "بہت فاسٹ" اور "زیادہ پبلک" ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان سب لڑکوں کا احترام کرتی ہیں، مگر دکھ اس بات کا ہے کہ وہ سب واقعی ان کے لیے اہم تھے، مگر ان کی لائف اسٹائل کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں ہو سکے۔ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔
کچھ صارفین نے کہا کہ وہ کبھی کسی انفلوئنسر سے تعلق نہیں رکھنا چاہیں گے کیونکہ اس زندگی میں پرائیویسی نہیں ہوتی اور زیادہ تر لوگ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتے ہیں۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ لائم لائٹ میں رہنے کی خواہش اور ہر چیز کو کانٹینٹ میں بدل دینا تھکا دینے والا ہوتا ہے۔کچھ لوگوں نے ذاتی تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ شہرت پانے سے پہلے انفلوئنسرز سادہ اور متوازن ہوتے ہیں، لیکن فالوورز بڑھنے کے بعد رویے میں نمایاں تبدیلی آ جاتی ہے اور عام رشتے انہیں بورنگ لگنے لگتے ہیں۔ہیمادری پٹیل کا تعلق دہرادون سے ہے، ان کے انسٹاگرام پر 2 لاکھ 25 ہزار سے زائد فالوورز اور یوٹیوب پر 13 لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں۔