بولی وڈ اداکارہ شلپا شیٹی اور ان کے شوہر و بزنس مین راج کندرا پر ممبئی کے ایک کاروباری شخص کو 60 کروڑ روپے کے فراڈ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
یہ معاملہ ان کی اب بند ہو چکی کمپنی بیسٹ ڈیل ٹی وی پرائیویٹ لمیٹڈ کے لیے کیے گئے ایک لون کم انویسٹمنٹ ڈیل سے متعلق ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق کاروباری شخصیت دیپک کوٹھاری نے الزام لگایا کہ 2015 سے 2023 کے دوران انہوں نے بزنس کی توسیع کے لیے اس جوڑے کو 60.48 کروڑ روپے دیے، مگر یہ رقم کاروبار کے بجائے ذاتی اخراجات پر خرچ ہوئی۔ دیپک کے مطابق وہ 2015 میں ایجنٹ راجیش آریا کے ذریعے شلپا اور راج کندرا سے ملے، اس وقت دونوں کمپنی کے ڈائریکٹر تھے اور شلپا کے پاس 87 فیصد سے زائد شیئرز تھے۔الزام کے مطابق، 75 کروڑ روپے کا قرض 12 فیصد سالانہ سود پر مانگا گیا، مگر ٹیکس کی زیادہ شرح سے بچنے کے لیے یہ تجویز دی گئی کہ رقم کو "انویسٹمنٹ" کے طور پر دیا جائے۔ اپریل 2015 میں پہلی قسط کے طور پر تقریباً 31.95 کروڑ روپے منتقل ہوئے، جبکہ جولائی 2015 سے مارچ 2016 کے درمیان مزید 28.54 کروڑ روپے دیے گئے۔ اس کے علاوہ 3.19 لاکھ روپے اسٹامپ ڈیوٹی کی مد میں بھی ادا کیے گئے۔
اپریل 2016 میں شلپا شیٹی نے ذاتی گارنٹی بھی دی، مگر ستمبر میں ڈائریکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد کمپنی پر 1.28 کروڑ روپے کا ان سالوینسی کیس سامنے آیا۔ بار بار مطالبے کے باوجود رقم واپس نہ ملی، اور الزام ہے کہ 2015 سے 2023 تک پیسہ ذاتی اخراجات پر خرچ کیا گیا۔یہ مقدمہ ابتدا میں جوہو پولیس اسٹیشن میں جعل سازی اور دھوکہ دہی کے تحت درج ہوا، مگر 10 کروڑ سے زائد رقم ہونے کے باعث اکنامک آفنسز ونگ کے سپرد کر دیا گیا جو تحقیقات کر رہی ہے۔شلپا شیٹی اور راج کندرا کے وکیل پرشانت پاٹل نے الزامات کو بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ سراسر سول نوعیت کا ہے، اس میں کوئی مجرمانہ پہلو نہیں، اور ان کے مؤکلین کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔