بھارتی بزنس مین اور اداکار راج کندرا نے مبینہ فحش مواد کیس پر چار سال بعد خاموشی توڑتے ہوئے عدالت اور نظامِ انصاف سے براہِ راست اپیل کی ہے، جس کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے۔
راج کندرا نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اگر ان پر لگائے گئے الزامات درست ثابت ہو جاتے ہیں تو عدالت انہیں قانون کے مطابق سزا دے، تاہم اگر ان کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوتے تو انہیں باعزت بری کر کے ان کی ساکھ اور آزادی بحال کی جائے۔ان کے مطابق یہ مقدمہ گزشتہ چار برس سے ممبئی کی نچلی عدالت میں زیر سماعت ہے، اور اب ان کے وکیل اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں۔ راج کندرا نے اس طویل عدالتی عمل اور تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال نے ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی پر شدید منفی اثرات ڈالے ہیں۔انہوں نے میڈیا ٹرائل پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل منفی خبروں اور عوامی رائے نے ان کی عزتِ نفس اور ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
ان کے بقول "انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے"۔واضح رہے کہ راج کندرا کو جولائی 2021 میں ممبئی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر فحش مواد کی تیاری اور آن لائن تقسیم کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں انہیں ایک اہم کردار کے طور پر نامزد کیا تھا۔گرفتاری کے بعد وہ تقریباً دو ماہ جیل میں رہے، بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس وقت سے یہ کیس بھارتی میڈیا اور شوبز انڈسٹری میں مسلسل زیر بحث رہا ہے۔یہ مقدمہ بھارت کے سب سے زیادہ ہائی پروفائل اور متنازع کیسز میں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ راج کندرا کے حالیہ بیان کے بعد ایک بار پھر اس کی قانونی اور سماجی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اب سب کی نظریں عدالت کے آئندہ فیصلے پر ہیں، جو ان کے مستقبل اور ساکھ کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔