انڈمان کے قریب کشتی ڈوب گئی، خواتین و بچوں سمیت تقریباً 250 افراد لاپتہ

انڈمان کے قریب کشتی ڈوب گئی، خواتین و بچوں سمیت تقریباً 250 افراد لاپتہ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) نے ایک افسوسناک واقعے کی تصدیق کی ہے جس کے مطابق انڈمان کے قریب سمندر میں ایک کشتی ڈوبنے کے بعد خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 250 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق یہ کشتی بنگلا دیش کے علاقے ٹیکناف سے روانہ ہوئی تھی اور ملائیشیا کی جانب جا رہی تھی۔ دورانِ سفر کشتی کو شدید موسمی حالات، تیز ہواؤں اور حد سے زیادہ مسافروں کی موجودگی کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں یہ بدقسمت حادثہ پیش آیا۔اقوام متحدہ کے اداروں نے اس واقعے کو روہنگیا مہاجرین کے بحران اور ان کے مستقل حل کی کمی کی ایک اور المناک مثال قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ 2017 میں میانمار میں فوجی کارروائیوں کے بعد 7 لاکھ 30 ہزار سے زائد روہنگیا افراد بنگلا دیش منتقل ہوئے تھے۔بنگلا دیش کوسٹ گارڈ کے مطابق 9 اپریل کو ایک اور کارروائی کے دوران سمندر میں تیرتے ہوئے 9 افراد کو زندہ بچایا گیا، جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔ بعد ازاں کچھ افراد کو انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شبے میں گرفتار بھی کیا گیا۔

بچ جانے والے ایک شخص رفیق الاسلام نے بتایا کہ اسے اور دیگر افراد کو ملازمت کا جھانسہ دے کر کشتی میں سوار کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق سفر کے دوران شدید ہجوم، دم گھٹنے اور خراب حالات کے باعث متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ وہ خود تقریباً 36 گھنٹے تک سمندر میں تیرتا رہا۔یہ واقعہ ایک بار پھر اس خطرناک رجحان کو اجاگر کرتا ہے جس کے تحت ہر سال ہزاروں روہنگیا مہاجرین بہتر زندگی کی تلاش میں سمندری راستوں سے خطرناک سفر اختیار کرتے ہیں، جس کے دوران بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔