ایران امریکہ مذاکرات پاکستان کی دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش

ہمارا جھکائو پاکستان کی طرف ‘اگلے دو دن میںاسلام میں مذاکرات ہو سکتے ہیں،ہم کسی اور ملک کیوں جائیں، پاکستان کا انتخاب زیادہ بہتر ‘فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بہترین کام کر رہے ہیں،رپورٹر وہیں رہیں، ٹرمپ
 امریکہ اور ایران کے مذاکرات اب بھی جاری، ناکہ بندی کے باعث تہران کی جانب سے معاہدے کی خواہش مزید بڑھ سکتی ہے، معاہدے تک پہنچنے کے لیے پیشرفت: امریکی عہدیدار 
اسلام آباد،واشنگٹن (آئی این پی )پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کر دی،مذاکرات کا دوسرا دور رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے ، جس کے لئے تیاریاں تیز کردی گئیں۔ امریکی خبر رساں ا دارے کی رپورٹ میں دو پاکستانی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیاہے کہ پاکستان نے سیز فائرکی مدت ختم ہونے سے پہلے مذاکرات اسلام آباد میں منعقد کرنے کی تجویز دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا رائو نڈ بھی اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے تاہم مذاکراتی مقام کیلئے دوسرا آپشن عمان یا پھر مشرق وسطی کا کوئی اور ملک بھی ہوسکتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ امریکا ایران مذاکرات کا دوسرارائو نڈ رواں ہفتے کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعرات کو ہو سکتا ہے جبکہ امریکی عہدیدار نے بھی توقع ظاہر کی ہے کہ فریقین معاہدے کیلئے نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے رائو نڈ کی تیاریاں تیز ہوگئی ہے ۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک معاہدے تک پہنچنے کے لیے براہِ راست بات چیت پر غور کر رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کیدریں اثناء  خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے پس پردہ رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ سفارتی اور حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مذاکرات آئندہ ہفتے مذاکرات اسلام آباد ، سعودی عرب یا ترکیہ میں متوقع ہیں ۔ جس میں ایران اور امریکہ کے اعلی سطح وفود کو شرکت کی دعوت دی جائے گی ۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس اور پاکستان کے اعلیٰ حکام نے بھی ان خفیہ سفارتی رابطوں کی تصدیق کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان 21 اپریل کو جنگ بندی کے ممکنہ خاتمے سے قبل پیش رفت چاہتا ہے تاکہ خطے میں کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔مذاکرات کے پہلے مرحلے میں 25 میں سے 22 نکات پر اتفاق رائے ہو چکا تھا، تاہم جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور ایرانی پراکسیز کے خاتمے جیسے اہم معاملات پر تعطل پیدا ہو گیا ہے۔ذرائع کے مطابق، فریقین ابتدائی دور میں ایک مشترکہ معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے، مگر چند حساس نکات پر اختلافات نے پیش رفت کو روک دیا۔ اس کے باوجود، واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست رابطے تاحال جاری ہیں، جس کی تصدیق ایک امریکی عہدیدار نے بھی کی ہے۔امریکی صدر نے بھی ایران کے ساتھ رابطوں کا اعتراف کیا ہے، جس سے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی کا عندیہ ملتا ہے۔دوسری جانب، وزیراعظم کے حالیہ دورہ سعودی عرب اور ترکیہ کو بھی ان مذاکرات کی بحالی کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو نہ صرف خطے میں استحکام آئے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی کشیدگی میں کمی متوقع ہے