راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ہوتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر پارٹی کی ترجمانی نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا ہے کہ بیرسٹر گوہر کا حالیہ بیان — جس میں آرمی چیف کو فیلڈ مارشل کا خطاب دینے کی بات کی گئی — پارٹی کا مؤقف نہیں بلکہ ان کی ذاتی رائے ہے۔علیمہ خان نے زور دیا کہ “بانی پی ٹی آئی کا موقف ہم کل دے چکے ہیں، اور بیرسٹر گوہر اگر کوئی خراج تحسین پیش کرتے ہیں تو وہ ان کا ذاتی فعل ہے، پارٹی کا مؤقف نہیں۔”
جیل میں ملاقات اور عدالتی کارروائی میں رکاوٹ کی شکایت
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ اڈیالہ جیل میں ان کی ملاقات کو روکا گیا، حالانکہ بانی پی ٹی آئی نے عدالت میں واضح طور پر کہا کہ "میری بہن باہر کھڑی ہے، انہیں اندر آنے دیا جائے"۔ان کے مطابق جج کے احکامات کے باوجود انہیں عدالت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں اور بانی پی ٹی آئی کو جیل میں ایک قیدی کی بنیادی سہولیات بھی نہیں دی جا رہیں۔
جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے مسائل پر گفتگو
علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی کا پیغام پہنچاتے ہوئے کہا کہ "جمہوریت، رول آف لاء اور اخلاقیات پر کھڑی ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں ان تینوں اصولوں کو دفن کر دیا گیا ہے۔"انہوں نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے شکایت کی کہ انہیں کتابیں نہیں دی جا رہیں اور بچوں سے بات کرنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو مکمل طور پر تنہا کر دیا گیا ہے اور ججز کے احکامات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
مودی، بلوچستان اور ملکی سلامتی کے خدشات
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے خبردار کیا ہے کہ "مودی کوئی نہ کوئی شرارت ضرور کرے گا"، اور اگر بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مودی متحرک ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔
انتخابی اصلاحات اور مذاکرات کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کا موقف
علیمہ خان نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی مدت پوری ہو چکی ہے اور ابھی تک نئے الیکشن کمشنر کی تقرری نہیں کی گئی، جو آئینی عمل کا تقاضا ہے۔انہوں نے بانی پی ٹی آئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن ابھی تک کسی نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ “اگر پارٹی کے اندر سے بھی کوئی مذاکرات کی بات کرتا ہے تو ہم نہیں مانیں گے۔ یہ صرف توجہ ہٹانے کے لیے خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔”