واشنگٹن: امریکا کی جانب سے یورپ میں نیٹو مشنز کے لیے تعینات اپنے فوجی اثاثوں میں ممکنہ کمی پر غور کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نیٹو اتحادیوں کے لیے فراہم کیے جانے والے جنگی طیاروں کی تعداد میں تقریباً ایک تہائی کمی کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس کے ساتھ فضائی ایندھن فراہم کرنے والے آٹھ ٹینکر طیارے بھی واپس بلائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں دو سینئر یورپی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکا بحری نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے طیاروں کی تعداد میں بھی کمی پر غور کر رہا ہے، جس سے یورپ کی مجموعی دفاعی نگرانی کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ امریکا اپنے بعض اہم فوجی اثاثوں کو دیگر خطوں میں منتقل کرنے پر بھی غور کر رہا ہے، جن میں میزائل لانچ کرنے والی آبدوز، ایک طیارہ بردار بحری جہاز، بمبار طیاروں کا ایک دستہ اور متعدد جنگی طیارے اور بحری جہاز شامل ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے نیٹو کی یورپ میں دفاعی موجودگی اور حکمت عملی پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ یورپی ممالک کو اپنی دفاعی ذمہ داریوں میں مزید خود انحصاری کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس کے ساتھ کشیدگی، یوکرین جنگ اور عالمی سلامتی کی صورتحال کے باعث یورپی ممالک پہلے ہی اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کر رہے ہیں۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔