ویب ڈیسک: شہریوں کی حفاظت اور حادثات کی روک تھام کے لیے پنجاب ٹریفک پولیس نے غیرمعیاری موٹر سائیکل رکشوں اور لوڈر رکشوں پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔
ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ سمری میں کہا گیا ہے کہ موٹر سائیکل رکشوں پر عموماً 6 سے 8 مسافروں کو بٹھایا جاتا ہے، جو نہ صرف ٹریفک کی روانی میں بڑی مشکلات پیدا کرتے ہیں بلکہ ان کی تیاری کے دوران قوانین کی خلاف ورزی بھی کی جاتی ہے۔ موٹر سائیکل رکشوں کی تیاری میں غیر لائسنس یافتہ فرموں اور مقامی ورکشاپس کی جانب سے ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا، جس کے نتیجے میں ناقص مواد کا استعمال کیا جاتا ہے، جو ان رکشوں کا توازن برقرار نہیں رکھ پاتا۔ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ ان رکشوں کی تیاری کے دوران کئی حفاظتی پہلو نظرانداز کیے جاتے ہیں، جس کے باعث اکثر رکشے بریک لگانے پر حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں، جو کہ جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، زیادہ تر ڈرائیورز کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ رکشے رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔سی ٹی او لاہور کی جانب سے تیار کی گئی سمری کو آئی جی پنجاب نے منظور کر لیا ہے، جس کے بعد یہ تجویز حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا ہے۔