سندھ ہائیکورٹ نے شہر کی مرکزی شاہراہوں پر چنگ چی رکشوں پر پابندی کے خلاف دائر درخواست پر سندھ حکومت، کمشنر کراچی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے تمام فریقین کو 16 جولائی تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
درخواست گزار کا مؤقف
درخواست گزار کے وکیل صلاح الدین گنڈا پور ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ:سندھ حکومت نے ابتدائی طور پر 12 روٹس پر چنگ چی رکشوں پر پابندی عائد کی تھی۔بعد ازاں نوٹیفکیشن میں ترمیم کر کے یہ پابندی 30 روٹس تک بڑھا دی گئی۔یہ فیصلہ متاثرہ فریقین سے کسی مشاورت کے بغیر کیا گیا، جو کہ قانونی طور پر غلط ہے۔درخواست گزار نے مزید کہا کہ:"شہر میں تقریباً 60 ہزار چنگ چی رکشے چل رہے ہیں، جن میں سے 80 فیصد وہی ہیں جو اب پابندی والے روٹس پر چلنے سے روک دیے گئے ہیں۔ اس پابندی کے باعث ہزاروں غریب شہریوں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے۔"
قانونی نکات
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ حالیہ قانونی ترامیم کے بعد شاہراہوں پر ٹریفک سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار کمشنر کراچی کو نہیں بلکہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کو حاصل ہے، اس لیے کمشنر کا جاری کردہ نوٹیفکیشن قانونی اختیار سے تجاوز کے زمرے میں آتا ہے۔
عدالت کا ردعمل
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد تمام فریقین کو نوٹس جاری کر کے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ:"یہ معاملہ پبلک انٹرسٹ سے جڑا ہوا ہے، اس پر مناسب سماعت کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔"یہ کیس شہر میں روزانہ لاکھوں افراد کو سستے سفری ذرائع فراہم کرنے والے چنگ چی رکشہ ڈرائیورز اور ان کے معاشی مستقبل سے جڑا ہوا ہے، اور آنے والے دنوں میں عدالت کا فیصلہ اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔