جماعت اسلامی کے امیر کا شرح سود میں کم از کم 3 فیصد کمی کا مطالبہ

جماعت اسلامی کے امیر کا شرح سود میں کم از کم 3 فیصد کمی کا مطالبہ

لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے شرح سود میں کم از کم 3 فیصد کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ 20 ستمبر کے اسلام آباد مارچ میں رکاوٹ ڈالنے سے گریز کیا جائے، بصورت دیگر اس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

پنجاب اسمبلی کے سامنے جماعت اسلامی کے دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ملک بھر میں پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنوں کی تعداد 40 ہوگئی ہے اور احتجاج کا آج 30واں روز ہے۔ ان کے مطابق دھرنے اب قومی تحریک کی شکل اختیار کرچکے ہیں اور عوام، خصوصاً خواتین کی شرکت میں اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے مزید ایک دن مانگا ہے، تاہم جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ ہے۔ ان کے بقول حکومت کو لیوی کے متبادل سمیت 6 تجاویز دی جاچکی ہیں، اس لیے لیوی ختم کرنے سے اخراجات کیسے پورے ہوں گے، یہ مؤقف قابل قبول نہیں۔حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت نے ریلیف پیکیج کے لیے 500 ارب روپے کی بچت استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم موجودہ مہنگائی میں فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف بھی ناکافی ہے۔ ان کے مطابق ریلیف پیکیج سے زیادہ ضروری پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے۔

شرح سود کے حوالے سے انہوں نے مطالبہ کیا کہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں کم از کم 3 فیصد کمی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شرح سود کم ہونے سے مہنگائی بڑھنے کا حکومتی مؤقف درست نہیں، جبکہ سود کے مکمل خاتمے کی جانب بھی پیش رفت ہونی چاہیے۔آئل سیکٹر پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے مقامی اور درآمدی تیل کی قیمتیں برابر کرنے اور ریفائنریوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی کے مکمل خاتمے پر بھی زور دیا۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے جاری رہیں گے اور حکومت سے مذاکرات بھی ساتھ ساتھ ہوں گے۔ 20 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کی تیاریاں مکمل ہیں اور جماعت اسلامی عوام کو ریلیف ملنے تک احتجاج جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن جماعت ہے تاہم کارکن گرفتاریوں اور قربانیوں کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو آئینی و قانونی طور پر احتجاج کا حق ملنا چاہیے۔حافظ نعیم نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے جماعت اسلامی کے دھرنوں کی حمایت کی ہے جبکہ جماعت اسلامی نے بھی اس کے احتجاج کی حمایت کی۔ ان کے بقول پیپلزپارٹی بھی پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے مؤقف کے ساتھ ہے اور ممکن ہے اس معاملے پر بلاول بھٹو زرداری سے رابطہ کیا جائے۔