اسلام آباد ( خصوصی رپورٹ) تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے عملی سیاست چھوڑنے کا فیصلہ اگست 2021ء میں ہی کرلیا تھا۔ ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ لوگوں کو شاید لگتا ہے کہ انہوں نے نومبر 2023ء میں سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کیا، تاہم وہ اگست 2021ء میں ہی یہ فیصلہ کرچکے تھے اور اس کا ذکر صحافی کاشف عباسی سمیت قریبی دوستوں سے بھی کیا تھا۔ ان کے مطابق نومبر 2023ء میں موجودہ حالات کے دوران ان پر پارٹی چھوڑنے کے لیے براہ راست دبا ئو ڈالا جا رہا تھا۔ طبی بنیادوں پر ریلیف کے حوالے سے اسد عمر نے کہا کہ نواز شریف کو صحت کے خطرات اور ہمدردی کی بنیاد پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی، جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد اور ڈاکٹر فیصل سلطان کی طبی رپورٹس پر شکوک پیدا کیے گئے۔ موجودہ سیاسی صورتحال پر ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پاس احتجاج اور لانگ مارچ کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں، تاہم پنجاب میں ممکنہ کریک ڈا ئون کے باعث عام لوگوں کے سڑکوں پر نکلنے کے امکانات کم ہیں۔