سہیل آفریدی آج لاہور آمد، دفعہ 144 نافذ
لاہور میں ہی پنجاب سٹریٹ موومنٹ کا باضابطہ اور فیصلہ کن لائحہ عمل دیا جائے گا: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، کسی بھی غیر قانونی اجتماع کا انعقاد کرنے شرکت کے لیے لوگوں کو اکسانے، ترغیب دینے یا فنڈنگ کرنے جیسے اقدامات پر بھی مکمل پابندی ہوگی: نوٹیفکیشن
پہلا انٹرو
پشاور (خصوصی رپورٹ ) تحریک انصاف کے کارکن اشتیاق احمد کی موت کے واقعے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے شدید ترین ردعمل دیتے ہوئے کہا غیر قانونی چھاپوں کے دوران پارٹی ورکر اشتیاق احمد کو مبینہ طور پر گرم تیل کے کڑاہی میں گرایا گیا، جو جان لیوا ثابت ہوا۔سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آج لاہور میں اشتیاق شہید کے گھر تعزیت کے لیے جائیں گے، متاثرہ خاندان کے غم میں شرکت کے ساتھ ہی لاہور میں ہی پنجاب سٹریٹ موومنٹ کا باضابطہ اور فیصلہ کن لائحہ عمل دیا جائے گا، جس سے 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل حکومتی اعصاب کا کڑا امتحان ہوگا۔
دوسرا انٹرو
لاہور ، ( کرائم رپورٹر) محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں 13 سے 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق اس مدت کے دوران پنجاب کے تمام اضلاع میں عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر 5 یا اس سے زائد افراد کے ایک ساتھ جمع ہونے، جلوس نکالنے، جلسے جلوس منعقد کرنے اور کسی بھی قسم کے احتجاجی اکٹھ پر مکمل پابندی عائد رہے گی، عام شہریوں کے عوامی مقامات پر ہر قسم کا اسلحہ اور ہتھیار ساتھ لے کر چلنے یا ان کی نمائش کرنے پر بھی سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی اجتماع کا انعقاد کرنے، اس میں شرکت کے لیے لوگوں کو اکسانے، ترغیب دینے یا فنڈنگ کرنے جیسے اقدامات پر بھی مکمل بین ہوگا، تاہم عوامی سہولت اور مذہبی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پابندی کا اطلاق شادی بیاہ کی تقاریب، نمازِ جنازہ، تدفین کے مراحل، مساجد اور دیگر تمام عبادت گاہوں میں ہونے والے باقاعدہ عبادتی امور پر بالکل نہیں ہوگا۔اس کے علاوہ عدالتوں کی کارروائی، حکومتی دفاتر و اداروں کے روزمرہ امور اور پہلے سے باضابطہ اجازت حاصل کر کے منعقد کی جانے والی سرکاری یا سماجی تقریبات بھی اس نفاذ سے مستثنیٰ رہیں گی، ڈیوٹی پر مامور قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی سیکیورٹی مقاصد کے لیے اسلحہ رکھنے اور نقل و حرکت کی مکمل اجازت ہوگی۔حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سخت اور ایمرجنسی اقدامات خطے میں عوامی امن، سکون، اور شہریوں کی زندگیوں کو لاحق سنگین سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھائے گئے ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے حکومت کو بھیجی گئی حالیہ رپورٹوں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے انکشافات سے معلوم ہوا ہے کہ مختلف کالعدم دہشت گرد تنظیمیں صوبے میں عوامی اجتماعات اور سیاسی و سماجی ریلیوں کو اپنا آسان ہدف بنا کر تخریب کاری کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔بتایا جارہا ہے کہ اس قسم کے بڑے اجتماعات، دھرنے اور مظاہرے شہریوں کی کثیر تعداد کی موجودگی کے باعث دہشت گردوں کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں، انہی فوری نوعیت کے امن و امان کے خطرات کے پیشِ نظر اور لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے، سیکرٹری داخلہ پنجاب نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144(6) کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے فوری طور پر ان تمام تر اجتماعات اور سرگرمیوں پر 5 روز کے لیے پابندی لاگو کردی ہے۔