رفیع صحرائی
نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کا قیام بلاشبہ ایک اہم قومی اور آئینی معاملہ ہے۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کی جانب سے اکتوبر میں نئے صوبوں کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی بھی نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر متعدد مرتبہ اظہارِ خیال کر چکے ہیں۔ انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم کے اپنے دلائل اور تقاضے ہیں اور اگر یہ بحث آئینی، سیاسی اور قومی مفاد کے دائرے میں ہو تو اسے ضرور آگے بڑھنا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت پاکستان کے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ نئے صوبے ہیں؟ بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات اور ادویات کی قیمتوں کا تعیّن تو پھر بھی وفاق کے پاس ہی رہنا ہے، ایسے میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا فائدہ عوام کو ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ البتہ یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ مجوزہ نئے صوبوں یا اننتظامی یونٹس کی حدود میں رہائش پذیر سیاسی خانوادے بھی اپنے ''اصل حکمرانی'' کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کر سکیں گے۔ اپنے اپنے صوبے، اپنی اپنی حکومت۔
بات وہیں سے شروع کرتے ہیں کہ کیا اس وقت عوام کا بڑا مسئلہ مہنگائی ہے یا نئے صوبوں کا قیام ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے کسی سروے یا پیچیدہ تحقیق کی ضرورت نہیں۔ بازار میں نکل کر سبزی، آٹا، دال، گوشت، دودھ اور دوا کی قیمت پوچھ لیجیے، بجلی کا بل دیکھ لیجیے، پٹرول پمپ پر گاڑی کی ٹینکی بھروائیے یا کسی سفید پوش گھرانے کے ماہانہ اخراجات کا حساب کر لیجیے۔ حقیقت سامنے آ جائے گی کہ عام پاکستانی کا اصل مسئلہ مہنگائی، کم آمدنی، بے روزگاری، بجلی و گیس کے بھاری بل اور روزمرہ زندگی کا بڑھتا ہوا معاشی دباؤ ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان مسائل کا حل نئے صوبوں کی تشکیل میں کہاں سے آئے گا؟ مہنگائی کی چابی تو پھر بھی وفاق کے پاس ہی رہے گی، وہ جب چاہے گا یہ چابی گھما کر مہنگائی کی گاڑی اسٹارٹ کر کے اسے ٹاپ گیئر میں لگا دے گا۔ لہٰذا میری گزارش ہے کہ اکتوبر میں اگر پارلیمنٹ میں نئے صوبوں پر بحث ہونی ہے تو ضرور ہو، مگر اس سے پہلے چند دن، صرف چند دن، پارلیمنٹ میں مہنگائی پر بھی مکمل بحث کرائی جائے۔ حکومت اور اپوزیشن کے تمام ارکان عوام کو بتائیں کہ مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے، اسے کم کرنے کے لیے اب تک کیا کیا گیا اور آئندہ کیا کیا جائے گا؟
عوام یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ بجلی کے شعبے کا بحران آخر ختم کیوں نہیں ہو رہا؟ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے مختلف ادوار میں کن حکومتوں نے، کن شرائط پر کیے؟ ان معاہدوں میں بجلی کی قیمت، کیپیسٹی چارجز، ادائیگیوں اور دیگر ذمہ داریوں کا کیا طریقہ کار رکھا گیا؟ آج عوام بجلی استعمال کریں یا نہ کریں، بل میں مختلف نوعیت کے چارجز کیوں ادا کرتے ہیں؟ کس نے ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر آئی پی پیز کے عفریت کے سامنے پھینک رکھا ہے؟ گردشی قرضہ بار بار کیوں بڑھتا ہے اور اس کا بوجھ بالآخر صارف کی جیب پر کیوں منتقل ہوتا ہے؟
یہ سوال کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ مسلسل حکومتی پالیسیوں کے احتساب کا سوال ہے۔ جو حکومت جس دور میں فیصلہ کرتی رہی، اسے پارلیمنٹ کے سامنے اپنے فیصلوں کی وضاحت کرنی چاہیے۔ سب پارلیمنٹ کے کٹہرے میں کھڑے ہوں اور ماضی سے حال تک عوام کے ساتھ کیے گئے سلوک کا جواب دیں۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ آج کی مہنگی بجلی کی بنیاد کہاں رکھی گئی اور اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے کیا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی عوام کے لیے ایک مستقل عذاب بن چکی ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، ڈالر کا ریٹ، درآمدی لاگت، پٹرولیم لیوی، جنرل سیلز ٹیکس اور دیگر عوامل قیمتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، لیکن عام آدمی کا سوال سیدھا ہے: آخر پٹرول مہنگا ہونے کا سلسلہ کب رکے گا؟ کیونکہ پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو کرایے بڑھتے ہیں، ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، سبزی اور دودھ سے لے کر کپڑے اور تعمیراتی سامان تک ہر چیز کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ یوں ایک فیصلے کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔
گیس بھی عوام کے لیے ایک الگ معمہ بن چکی ہے۔ اپنے ملک میں پیدا ہونے والی قدرتی گیس کی قیمتوں میں گزشتہ چند سال کے دوران کئی سو فیصد اضافے کی وجوہات کیا ہیں؟ گیس کی قیمت طے کرنے کا نظام کیا ہے؟ مقامی صارف، صنعت اور برآمدی شعبے کے لیے مختلف نرخوں کے پیچھے کیا معاشی منطق ہے؟ پارلیمنٹ میں اس پر بھی کھلی بحث ہونی چاہیے۔ عوام کو محض بڑھے ہوئے نرخ نہ بتائے جائیں بلکہ نرخ مقرر کرنے کی وجوہات بھی بتائی جائیں۔
ایک اور سوال جس کا جواب عوام چاہتے ہیں وہ حکمران طبقے کی مراعات سے متعلق ہے۔ وزراء اور پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں اور مراعات میں نمایاں اضافوں کے فیصلے کس بنیاد پر کیے جاتے ہیں؟ عوام کے ٹیکسوں سے دی گئی مراعات کے بارے میں جاننے کا حق عوام کے پاس ہونا چاہیے۔ اگر ملک معاشی مشکلات سے دوچار ہے، عوام اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے پریشان ہیں، سرکاری ملازمین اور پنشنرز مہنگائی کے مقابلے میں اپنی آمدنی کم محسوس کر رہے ہیں تو پھر منتخب نمائندوں کے لیے تنخواہوں اور مراعات کا معیار کیا ہے؟ پارلیمنٹیرینز کو بنیادی تنخواہ کے علاوہ سفری سہولیات، رہائش، الاؤنسز، علاج، ٹیلی فون، گاڑی یا دیگر سہولیات میں سے کیا کچھ حاصل ہے؟ عوام کو اس کی مکمل تفصیل بھی معلوم ہونی چاہیے۔ ایک پارلیمنٹیرین خاتون گزشتہ دنوں فرما رہی تھیں کہ ان کی تنخواہ ''صرف پانچ لاکھ'' ہے جس میں ان کا گزارا نہیں ہوتا، تنخواہ میں اضافہ ہونا چاہیے۔ کیا کبھی کسی پارلیمنٹیرین نے آج تک سوچا ہے کہ بیس پچیس ہزار پنشن یا پینتیس چالیس ہزار روپے تنخواہ لینے والا سرکاری ملازم اپنے خاندان کی کفالت کیسے کر رہا ہو گا؟ ایک ریٹائرڈ شخص کی پنشن اگر گھر کے راشن، بجلی، گیس، ادویات اور علاج میں ہی ختم ہو جائے تو وہ باقی زندگی کیسے گزارے؟ حکومت کو کم از کم پنشن اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے مہنگائی سے منسلک حفاظتی نظام وضع کرنا چاہیے تاکہ قیمتیں بڑھنے کے ساتھ ان کی آمدنی بھی ایک معقول تناسب سے محفوظ رہ سکے۔
پارلیمنٹ میں یہ بھی زیر بحث آنا چاہیے کہ پاکستان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں پیداوار سے صارف تک پہنچتے پہنچتے اتنی زیادہ کیوں بڑھ جاتی ہیں؟ کسان کو گندم کی مناسب قیمت نہیں ملتی لیکن صارف مہنگا آٹا خریدتا ہے۔ درمیان میں ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، غیر ضروری مڈل مین اور کمزور نگرانی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ حکومت اگر واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو سپلائی چین، منڈیوں، ذخیرہ اندوزی اور پرائس کنٹرول کے پورے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرے۔
نئے صوبے بنانا ہیں تو بنائیے، انتظامی یونٹس بنانے ہیں تو آئین کے مطابق اس پر غور کیجیے، مگر یہ نہ بھولیے کہ پاکستان کے عوام کو اس وقت نئے نقشوں سے زیادہ نئے معاشی امکانات کی ضرورت ہے۔ انہیں ایسا نظام چاہیے جس میں بجلی کا بل قابلِ برداشت ہو، پٹرول قیمتوں میں استحکام ہو، گیس عام آدمی کی پہنچ سے باہر نہ ہو، بچوں کو معیاری تعلیم ملے، علاج ممکن ہو اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔
پارلیمنٹ کو عوام کے مسائل کی ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔ نئے صوبوں پر بحث اپنی جگہ، مگر اس سے پہلے مہنگائی، بجلی، گیس، پٹرول، آئی پی پیز، ٹیکسوں، تنخواہوں، پنشن اور حکمران طبقے کی مراعات پر کھلی، جامع اور نتیجہ خیز بحث ہونی چاہیے۔ صرف تقریریں نہیں بلکہ ہر مسئلے کے ساتھ ٹائم لائن، ذمہ دار ادارہ اور قابلِ پیمائش ہدف بھی مقرر کیا جائے۔
آخر میں حکومت اور اپوزیشن دونوں سے یہی گزارش ہے کہ عوام کی توجہ سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے حاصل کی جائے۔ پاکستان کے عام شہری کو اس وقت یہ فکر نہیں کہ نقشے پر کتنے صوبے ہوں گے؛ اسے فکر یہ ہے کہ اس کا گھر کیسے چلے گا۔ اگر پارلیمنٹ واقعی عوام کی نمائندہ ہے تو اسے پہلے اسی سوال کا جواب دینا ہوگا۔ کیونکہ بھوکے، مقروض اور مہنگائی سے پریشان شہری کے لیے صوبے کی سرحد سے زیادہ اہم اس کے گھر کی چاردیواری ہے، اور اس چاردیواری کے اندر جلتا ہوا چولہا ہے۔