عبداللہ ملک
موجودہ حالات میں پاکستان کو کسی بھی جنگ میں ملوث ہونے کی ضرورت نہیں، نہ حوثیوں کے خلاف اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کے خلاف۔ پاکستان پہلے ہی شدید اندرونی سیاسی، معاشی اور سماجی کشیدگی سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں ہماری قومی ترجیح جنگ نہیں بلکہ استحکام، امن، مکالمہ اور ڈی ایسکلیشن (کشیدگی میں کمی) ہونی چاہیے۔پاکستان کو کسی دوسرے ملک کی جنگ کا فریق بننے کے بجائے ایک غیر جانب دار اور پْرامن کردار ادا کرنا چاہیے اور ہر سطح پر مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پْرامن حل کی بات کرنی چاہیے۔
ہم گزشتہ چار دہائیوں میں دوسروں کی لڑائیوں اور جنگوں کا حصہ بنتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک اور قوم کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ اس تجربے سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے اور دوبارہ کسی ایسی پالیسی کی طرف نہیں جانا چاہیے جو پاکستان کو ایک اور جنگ میں دھکیل دے۔جمعہ کے روز جنگی جذبات کو ہوا دینے یا پاکستان کو کسی بیرونی جنگ میں شامل کرنے کی کوششوں کے پیچھے قوم کو نہیں چلنا چاہیے۔ پاکستان کے عوام کو امن، استحکام، روزگار، تعلیم اور اپنے بنیادی مسائل کے حل کی ضرورت ہے، نہ کہ ایک اور جنگ کی۔ہمیں ان تمام طرزِ فکر سے بھی محتاط رہنا چاہیے جنہوں نے ماضی میں انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا۔ پاکستان نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ہے اور مزید کسی ایسی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔لہٰذا پاکستان کی ریاستی اور قومی پالیسی کا بنیادی اصول واضح ہونا چاہیے:جنگ نہیں، امن؛ مداخلت نہیں، غیر جانب داری؛ محاذ آرائی نہیں، مکالمہ؛ اور کشیدگی نہیں، ڈی ایسکلیشن۔پاکستان کو ہر تنازع میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور کسی بھی فریق کی جنگ کو اپنی جنگ بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔