غزہ میں جاری نسل کشی رکنے کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے

شہزاد راجپوت
غزہ میں کئی سال سے جاری بمباری کے بعد جنگ بندی کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں۔ جو موجودہ صورت حال اس وقت سامنے آئی ہے اس میں حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو مشروط طور پر قبول کیا ہے۔ جس میں تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کا انتظام ایک ٹیکنوکریٹک فلسطینی ادارے کے حوالے کرنے کی بات کی گئی ہے اور اسرائیل نے اس منصوبے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کی آمادگی ظاہر کی ہے۔یہ منصوبہ امید کی ایک کرن ایسی آبادی کے لیے فراہم کرتا ہے جو بڑے پیمانے پر بے گھر ہوچکی ہے، جس کا انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے اور جس نے 66 ہزار سے زائد جانوں کا نقصان اٹھایا ہے اور تشدد میں معمولی وقفہ بھی معنی رکھتا ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایسے معاہدے اکثر اسرائیلی ہٹ دھرمی کے باعث ٹوٹ جاتے ہیں۔ اگر یہ موقع محض ایک وقتی جنگ بندی سے بڑھ کر کچھ بننا ہے تو اسے پائیدار عزم سے جوڑنا ہوگا۔نتن یاہو کی حکومت پہلے ہی اشارہ دے چکی ہے کہ وہ کارروائیوں کو مکمل طور پر روکنے کے بجائے ان کی شدت کوسمجھے ہوئے انداز میں جاری رکھے گی۔ غزہ سے موصول ہونے والی رپورٹس تصدیق کرتی ہیں کہ مسٹر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کو فوری طور پر بمباری بند کرنے کے مطالبے کے باوجود بمباری جاری ہے۔ٹرمپ نے حماس کے لیے ایک ڈیڈ لائن بھی مقرر کر دی ہے اور خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے معاہدہ قبول نہ کیا تو جہنم کے دروازے کھل جائیں گے۔ ایسے الٹی میٹم اس لمحے کی نزاکت اور اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ جبری اقدامات اس عمل کو خطرناک بنا دیتے ہیں جسے انصاف اور امن پر مبنی ہونا چاہیے۔ اسرائیل کی تاریخ وعدہ خلافیوں سے بھری پڑی ہے۔ اس بار ایسا نہیں ہونا چاہیے۔اس جنگ بندی کے ضامن واشنگٹن، عرب دارالحکومت، اور اقوامِ متحدہ کو یقینی بنانا ہوگا کہ وعدے خاموشی سے پسِ پشت نہ ڈال دیے جائیں اور کسی بھی خلاف ورزی پر نتائج لاگو کیے جائیں۔ مستقل دباؤ کے بغیر، تل ابیب کے پاس قیدیوں کے تبادلے سے آگے بڑھنے کی کوئی ترغیب نہیں ہوگی۔احتساب کو وقتی سہولت کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک 66 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جنہیں اقوامِ متحدہ بھی قابلِ اعتبار قرار دیتی ہے۔ یہ حقیقت کہ زیادہ تر شہدا خواتین اور بچے ہیں۔ اسرائیلی اقدامات کے سفاکانہ پیمانے کو واضح کرتی ہے۔ بین الاقوامی قانون ریاستوں کو ایسے جرائم کی تحقیقات کا پابند کرتا ہے۔اگر دسیوں ہزاروں کے قتلِ عام پر احتساب نہیں ہوگا تو امن ریت پر کھڑا ایک محل ثابت ہوگا اور بے خوفی آئندہ نسل کشی کی راہ ہموار کرے گی۔ غزہ کا مستقبل بھی اسی طرح مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ تقریباً دو دہائیوں سے جاری ناکہ بندی جس نے اس علاقے کو گلا گھونٹ دیا ہے اسے ہمیشہ کے لیے ختم کی جانی چاہیے۔ امدادی قافلے، فلسطینیوں کے آزادانہ نقل و حرکت ، اپنے گھر دوبارہ تعمیر کرنے اور معیشت کو بحال  کرنے کے حق کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔ نقل و حرکت کی آزادی کے بغیر غزہ ایک کھلی جیل ہی رہے گا۔آخرکار کوئی ٹیکنوکریٹک کمیٹی یا عبوری انتظامیہ اصل مسئلے کا حل نہیں دے سکتی۔ صرف دو ریاستی حل ہی عزت و سلامتی کی ضمانت دے سکتا ہے۔ جسے اسرائیلی بستیوں کی توسیع نے ہمیشہ سبوتاڑ کیا لیکن اسرائیلی قیادت پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرے گی اور سیکورٹی کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے فلسطینیوں کو خودمختاری سے محروم رکھے گی۔
جب تک فلسطینیوں کو ایک قابلِ عمل ریاست قائم کرنے کے وسائل نہیں دیے جاتے، تشدد کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا۔ یہ کمزور وقفہ ایک موقع فراہم کر سکتا ہے لیکن اگر یہ احتساب، آزادی اور خود ارادیت پر مبنی نہیں ہوگا تو یہ صرف ایک اور وقفہ ہوگا یا پھر اگلے المیے سے پہلے کی خاموشی۔