تنقید یا احتساب؟ پسرور ہسپتال کے دورے نے صحت کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی

 سعدیہ مقصود
سرکاری اداروں میں انتظامی احتساب کبھی آسان عمل نہیں ہوتا۔ جب بھی کسی غفلت پر کارروائی کی جاتی ہے تو اس پر مختلف آراء￿  سامنے آتی ہیں، لیکن بنیادی سوال یہی ہوتا ہے کہ اگر عوامی وسائل کے تحفظ اور سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی پر بھی جوابدہی نہ ہو تو نظام میں بہتری کیسے آئے گی؟ ٹی ایچ کیو اسپتال پسرور میں صوبائی وزیرِ صحت و آبادی پنجاب خواجہ عمران نذیر کے حالیہ دورے نے بھی اسی بحث کو جنم دیا۔

وزیرِ صحت نے اچانک دورے کے دوران اسپتال کے مختلف شعبوں، ادویات کے ذخیرے اور انتظامی امور کا جائزہ لیا۔ معائنے میں سامنے آیا کہ ادویات کے اسٹور میں مطلوبہ ایئر کنڈیشننگ موجود نہیں تھی، جس سے قیمتی ادویات کے خراب ہونے کا خدشہ تھا، جبکہ بعض خالی کمروں میں ایئر کنڈیشنرز حکومتی ہدایات کے برخلاف 26 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت پر چل رہے تھے۔ ایمبولینس کی عدم دستیابی اور صفائی و سکیورٹی عملے کی تنخواہوں میں تاخیر کا بھی نوٹس لیا گیا، جس پر فوری اصلاحی اقدامات اور متعلقہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔

اس کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید سامنے آئی، جس پر خواجہ عمران نذیر نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ صلاحیت یا طبی خدمات پر تنقید نہیں تھا، بلکہ معاملہ صرف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی انتظامی ذمہ داریوں سے متعلق تھا۔ ان کے مطابق ایم ایس صرف ایک معالج نہیں بلکہ اسپتال کے انتظام، وسائل کے تحفظ اور مؤثر گورننس کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے، اس لیے انتظامی غفلت پر جوابدہی ناگزیر ہے۔

وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ اگر لاکھوں روپے مالیت کی ادویات مناسب درجہ حرارت نہ ہونے کے باعث خراب ہونے کے خطرے سے دوچار ہوں اور دوسری جانب غیر ضروری طور پر بجلی ضائع کی جا رہی ہو تو خاموش رہنا عوامی مفاد کے خلاف ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب کے ڈاکٹرز نظامِ صحت کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کا احترام ہمیشہ مقدم رہے گا، تاہم انتظامی غفلت کسی بھی عہدے پر قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی انتظامی فیصلے کو چند وائرل ویڈیوز کے بجائے اس کے مکمل تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر مقصد عوامی وسائل کا 
تحفظ، اسپتالوں میں نظم و ضبط اور مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ہو تو ایسے اقدامات کا اصل معیار ان کے نتائج ہونے چاہییں۔ پسرور کا واقعہ بھی یہی پیغام دیتا ہے کہ صحت کے نظام میں پائیدار بہتری مؤثر نگرانی، بروقت فیصلوں اور شفاف احتساب سے ہی ممکن ہے۔