ڈگری نہیں، مہارت چاہیے: پاکستانی نوجوانوں کا بدلتا چیلنج

محمد راشد تبسم
ہر سال 15 جولائی کو دنیا بھر میں ''نوجوانوں کی مہارتوں کا عالمی دن'' منایا جاتا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو روزگار، کاروبار اور مستقبل کے چیلنجز کے لیے ضروری مہارتوں کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔ اس سال 2026 کا موضوع ’’بہتر مشترکہ مستقبل کے لیے مہارتیں‘‘ ہے، جو اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں تکنیکی و ڈیجیٹل مہارتوں کے ساتھ انسانی اور سماجی صلاحیتیں بھی ناگزیر ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر میں تعلیمی اور تربیتی نظام کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے تاکہ نوجوان معاشی خودمختاری کے ساتھ پائیدار اور پرامن معاشرے کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
اس تبدیلی کی بنیاد چوتھی صنعتی لہر ہے، جو مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور خودکار نظاموں کے باعث تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2030 تک دنیا کی افرادی قوت کی تقریباً 39 فیصد بنیادی مہارتیں تبدیل ہو جائیں گی، یعنی آج کی مہارتیں کل کے روزگار کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔ اسی لیے دنیا بھر میں ڈگری کے ساتھ عملی مہارت اور صلاحیت کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے، اور تعلیمی نظام کو صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ہنر پر مبنی تعلیم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
پاکستان اس وقت تعلیم اور ہنرمندی کے حوالے سے ایک سنگین بحران سے دوچار ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں سرکاری اور نیم سرکاری منظور شدہ جامعات کی تعداد 244 ہے، جہاں سے ہر سال تقریباً 4 لاکھ 45 ہزار طلبہ ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ تاہم، تعلیمی نظام، عملی مہارتوں اور روزگار کی منڈی کی ضروریات میں عدم مطابقت کے باعث فارغ التحصیل افراد کی بڑی تعداد مناسب روزگار حاصل نہیں کر پاتی۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ہر سال تقریباً 25 ہزار انجینئرنگ اور آئی ٹی گریجویٹس جامعات سے فارغ ہوتے ہیں، مگر ان میں سے صرف 20 فیصد ہی صنعت کے مطلوبہ معیار پر پورا اترتے ہیں۔ نتیجتاً ہنرمند افرادی قوت کی کمی اور بے روزگاری کے مسائل مزید سنگین ہو رہے ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی تحقیق کے مطابق یونیورسٹی کے 31 فیصد گریجویٹس ڈگری مکمل کرنے کے باوجود بے روزگار رہتے ہیں، کیونکہ ان کا نصاب مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ عملی مہارتوں کے بجائے محض امتحان پاس کرنے تک محدود ہو چکا ہے۔ اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک رٹہ کلچر کو فروغ دیا جاتا ہے، جس کے باعث طلبہ کی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں اور وہ صرف امتحان میں کامیابی تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔
مزید برآں، سکولوں، کالجوں اور جامعات میں عملی تربیت کی شدید کمی ہے، جس کے باعث طالب علم ڈگری حاصل کرنے کے باوجود عملی زندگی اور روزگار کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتے۔ اس صورت حال کی ایک بڑی وجہ صنعت اور جامعات کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان ہے، جس کے نتیجے میں تعلیمی ادارے وہ جدید مہارتیں اور ٹیکنالوجیز نہیں سکھا رہے جن کی موجودہ منڈی کو ضرورت ہے۔ خاص طور پر مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل مہارتوں کے حوالے سے یہ خلا نمایاں ہے۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق 62 فیصد نوجوان اے آئی استعمال تو کر رہے ہیں، مگر صرف 30 فیصد نے اس کی باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں متروک نصاب اور پرانی ٹیکنالوجیز پڑھائی جا رہی ہیں، جس کے باعث نوجوان عالمی سطح کے مسابقتی ماحول میں مؤثر انداز سے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔
تاہم، اس سال کے ورلڈ یوتھ اسکلز ڈے کا پیغام واضح کرتا ہے کہ مستقبل میں صرف تکنیکی مہارتیں کافی نہیں ہوں گی، بلکہ انسانی صلاحیتیں بھی یکساں اہمیت رکھیں گی۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی معلومات کے تجزیے اور معمول کے بہت سے کام انجام دے سکتی ہے، مگر تنقیدی و تخلیقی سوچ، مؤثر ابلاغ، ٹیم ورک، قیادت اور جذباتی فہم جیسی صلاحیتیں بدستور انسان کی نمایاں قوت ہیں اور عالمی منڈی میں انہی کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اسی لیے اس سال کے موضوع میں ماحولیاتی مہارتوں اور شہری ذمہ داری پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے، تاکہ نوجوان موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرتے ہوئے پائیدار ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
یہی انسانی مہارتیں دراصل اس سال کے پیغام کا بنیادی نکتہ ہیں، مگر ہمارے تعلیمی نظام اور اردو ذرائع ابلاغ میں اب بھی ان پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جاتی۔ اگر پاکستان کو مستقبل کے لیے تیار کرنا ہے تو اس کی ابتدا پرائمری سطح سے ہنر پر مبنی نصاب متعارف کرانے اور بچوں کو کمپیوٹر کے ساتھ عملی زندگی کی مہارتیں سکھانے سے ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ حکومت کو فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کو قومی ترجیح بناتے ہوئے ہر ضلع میں جدید ہنر مراکز، جامعات میں مصنوعی ذہانت کی جدید تجربہ گاہیں قائم کرنے، صنعت اور جامعات کے درمیان مؤثر تعاون کو فروغ دینے اور اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کا جامع نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے، تاکہ نصاب، تدریس اور تحقیق تینوں مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ اسی طرح ثانوی سطح ہی سے طلبہ کے لیے مؤثر تعلیمی و پیشہ ورانہ رہنمائی کا نظام قائم کیا جائے، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں اور روزگار کی منڈی کی ضروریات کے مطابق درست شعبوں کا انتخاب کر سکیں۔
 درحقیقت، ایک جامع قومی ہنر پروگرام ہی نوجوان آبادی کو قومی بوجھ کے بجائے ترقی اور خوشحالی کی مضبوط قوت میں بدل سکتا ہے، کیونکہ اکیسویں صدی میں قوموں کے درمیان اصل مقابلہ معیشت یا عسکری طاقت سے زیادہ مہارت، تخلیقی صلاحیت اور جدت کا ہے۔ پاکستان کے نوجوان ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، مگر اس سرمائے کو مؤثر بنانے کے لیے نظام تعلیم کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے محض ڈگریوں کی تقسیم پر اکتفا کیا تو عالمی دوڑ میں مزید پیچھے رہ جائیں گے؛ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ ’’ہنرمند پاکستان‘‘ کے وڑن کو عملی شکل دی جائے۔