وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے مقدمات قانون اور آئین کے مطابق چل رہے ہیں اور تمام ملزمان کو فیئر ٹرائل کا حق دیا گیا ہے۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس کو مفصل اور جامع قرار دیا اور اس میں پیش کیے گئے نکات کی تعریف کی۔
نو مئی کے کیسز اور ملٹری کورٹس
عطا تارڑ نے کہا:نو مئی کے واقعات میں شامل افراد کے ٹرائل میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا۔ملٹری کورٹس میں ٹرائل صرف ان افراد کے ہوئے جنہوں نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے اور شہداء کی یادگاروں کو نقصان پہنچایا۔ملزمان کو وکیل کا حق، فیملی اور ریکارڈ تک رسائی فراہم کی گئی۔ملٹری کورٹس میں غیر حاضری میں ٹرائل ممکن نہیں، ملزمان کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔اپیل کا حق ملٹری اتھارٹیز اور ہائی کورٹ دونوں میں دیا گیا۔
قانونی عمل اور مقدمات کی تفصیلات
انہوں نے کہا کہ:مقدمات میں عجلت نہیں برتی گئی، فیصلے میں دو سال کا عرصہ لگا۔نو مئی کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ سازوں کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے۔تمام ملزمان کو ان کے جرائم کی سزا دی جائے گی اور کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
سیاسی استحکام اور معیشت پر پیش رفت
وزیر اطلاعات نے کہا کہ سیاسی استحکام کے لیے نیک نیتی سے مذاکرات جاری ہیں اور معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔مہنگائی اور شرح سود میں کمی واقع ہوئی ہے۔برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ملک ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل کر ترقی کی طرف گامزن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف نے 26 ویں آئینی ترمیم میں کردار ادا کیا، لیکن اس کے باوجود نو مئی کے مجرموں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جرائم کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور معیشت اور سیاسی استحکام کے لیے آگے بڑھنا لازم ہے۔