پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کے باوجود سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی کابینہ تاحال برقرار ہے۔
علی امین گنڈاپور کی تشکیل کردہ کابینہ کی تحلیل نہیں ہو سکی اور ان کے مستعفی ہونے کے بعد بھی کابینہ کو تحلیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔نوٹیفکیشن نہ ہونے کی وجہ سے کابینہ کے ارکان اپنی پوزیشن پر برقرار ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق اگر حکومت سے ہدایات ملتیں تو نوٹیفکیشن جاری کیا جا سکتا تھا، لیکن موجودہ صورت حال میں ہدایات نہیں دی گئیں۔اس صورتحال کے باعث صوبہ خیبر پختونخوا 24 گھنٹے سے چیف ایگزیکٹو کے بغیر ہے۔
علی امین کے استعفیٰ کے بعد نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا انتخاب گزشتہ روز کیا گیا، تاہم حلف نہ ہونے کی وجہ سے وہ وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھال نہیں سکے۔تحریک انصاف نے حلف کے لیے ہائیکورٹ سے رابطہ کر رکھا ہے، جبکہ گورنر خیبر پختونخوا کے علی امین کے استعفے پر اعتراضات آئینی بحران کا سبب بنے ہیں۔یہ صورتحال صوبے میں عبوری انتظامی خلا اور سیاسی عدم یقینی کی نشاندہی کرتی ہے۔