ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ عروج پر

 ایل پی جی 260 ، پہاڑی علاقوں میں400 روپیکلو تک پہنچ گئی، پلانٹس کے خلاف کارروائی کی جائے ،عرفان کھوکھرکا مطالبہ
 لاہور(خصوصی رپورٹ )ملک بھر میں ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ اپنے عروج پر پہنچ گئی جبکہ اوگرا سمیت دیگر متعلقہ ادارے غفلت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ عوام کو سرکاری نرخوں پر ایل پی جی دستیاب نہیں، اور مارکیٹ میں من مانی قیمتوں پر فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ ایل پی جی انڈسٹری ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے دنیا نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ اوگرا نے نومبر کے لیے فی کلو ایل پی جی کی سرکاری قیمت 201 روپے مقرر کی تھی، تاہم مارکیٹ میں یہ نرخ کہیں نظر نہیں آتے ،کراچی میں ایل پی جی فی کلو 250 سے 260 روپے میں فروخت کی جا رہی ہییعنی عوام کو 40 سے 50 روپے فی کلو اضافی ادا کرنا پڑ رہے ہیں، اسی طرح اسلام آباد اور لاہور میں بھی ایل پی جی 100 روپے فی کلو سرکاری قیمت سے زائد پر فروخت ہو رہی ہے۔عرفان کھوکھر کے مطابق پہاڑی علاقوں میں فی کلو ایل پی جی کی قیمت 400 روپے تک پہنچ چکی ہیجس سے سرد علاقوں کے رہائشی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں کسی بھی ایل پی جی پلانٹ سے عوام کو سرکاری نرخ پر گیس نہیں مل رہی، اور یہ صورتحال حکومتی اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ کے باعث عوام سے اربوں روپے کا ناجائز منافع وصول کیا جا رہا ہے۔