مزید 3 بنک اکاونٹس ، 5 ہزار شیئرز منجمد کرنے کا حکم، آر پی او کو تعمیل کرانے کی ہدایت
بشریٰ سمیت پی ٹی آئی رہنمائوں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی10 جنوری تک توسیع
راولپنڈی، اسلام آباد (خصوصی رپورٹ ) انسداد دہشتگری عدالت راولپنڈی نے نومبر احتجاج مقدمہ میں پانچ بڑے اداروں کے سربراہان کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دئے ۔ علیمہ خان نے مزید تین بنک اکاونٹس ، پانچ ہزار شیئرز بھی منجمد کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔علیمہ خان کے ضمانتی افراد کے وارنٹ گرفتاری کی عدم تعمیل پر عدالت نے ایس پی راول سعید ارشد کو نااہلی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے آر پی او راولپنڈی کو وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کرانے کا حکم جاری کر دیا۔ جمعرات کو انسداد دہشتگری عدالت میں جج امجد علی شاہ نے سماعت کا آغاز کیا تو دس ملزم اور ان کے وکلا حاضر تھے ۔دوران سماعت عدالت کے روبرو علیمہ پیش نہ ہوئیں۔ جس پر عدالت نے دسویں مرتبہ ملزمہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ۔ عدالت نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکریٹری کواپریٹوز، ڈی جی لینڈ ریکارڈز، چیف کمشنر اسلام آباد، اور چیئرمین سی ڈی اے کو توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کر دیئے۔عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 17 نومبر کے لیے مقرر کر دی۔ انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت نے بشریٰ بی بی سمیت پی ٹی آئی رہنمائوں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی توسیع کرتے ہوئے تمام ملزموں کو 19 جنوری تک متعلقہ مقدمات میں گرفتاری سے روک دیا۔،سماعت کے دوران جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ریمارکس دیئے کہ مجھے یہ سال کوئی اچھا نہیں لگ رہا،جس پر پی ٹی آئی کے وکلا نے مسکراتے ہوئے کہا سر اگر یہ سال اچھا نہیں تو اگلے سال کی کوئی تاریخ ڈال دیں،عدالت نے بعد ازاں تمام ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 19 جنوری تک ملتوی کر دی۔جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس کی عدالت نے بانی کیخلاف 2014 دھرنا کے 2 کیسزمیں سماعت وکلا ہڑتال کے باعث ملتوی کردی۔گزشتہ روز سماعت کے دوران ہڑتال اور سوگ کے باعث وکلا عدالت پیش نہ ہوئے اور عدالت نے بغیر کارروائی سماعت 8 جنوری تک ملتوی کردی۔انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے سانحہ 9 مئی کے 11 مقدمات سماعت کی شیخ رشید احمد و دیگر ملزمان عدالت پیش ہوئے۔عدالت نے حاضری کے بعد ملزمان کو جانے کی اجازت دے دی۔ملزمان میں چالان کی نقول کی تقسیم کا عمل جاری رہا۔نومئی کے 11 مقدمات کی سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔