اسلام آباد کچہری دھماکا، سہولت کار ،ہینڈلر گرفتار

 اب تک پانچ افراد کو حراست میں لیا خودکش بمبار،افغان نکلا،سرچ آپریشن تیز، 22افغان باشندے پکڑلیے
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سکیورٹی اداروں نے وفاقی دارالحکومت میں جوڈیشل کمپلیکس پر ہونے والے خودکش حملے کے سہولت کار اور ہینڈلر کو گرفتار کر لیا۔پولیس ذرائع کے مطابق سہولت کار گزشتہ ایک ماہ سے راولپنڈی میں مقیم تھا جبکہ ہینڈلر کو خیبرپختونخوا سے گرفتار کیا گیا، پولیس اور حساس اداروں نے اب تک پانچ افراد کو حراست میں لیا ہے،ذرائع نے بتایا کہ خودکش حملے سے قبل سہولت کار اور خودکش بمبار دونوں نے جوڈیشل کمپلیکس کی متعدد بار ریکی کی تھی تاکہ حملے کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دی جا سکے، ملزموں کو گرفتار کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیاہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سہولت کار کو ڈھوک پراچہ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا اور وہ راولپنڈی کینٹ کے اہم مقامات کی ریکی بھی کرتا رہا، سہولت کار اور ہینڈلر کو 40 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا گیا،قبل ازیں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے بتایا ہے کہ اسلام آباد کچہری پر ہونے والے حالیہ حملے کا خودکش بمبار افغانستان سے تعلق رکھتا تھا، ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملہ آور نہ تو اردو زبان سمجھ سکتا تھا اور نہ پاکستانی کرنسی کے نوٹوں سے واقف تھا۔وزیر مملکت نے بتایا کہ خودکش بمبار اسلام آباد میں داخل ہونے کے بعد مختلف موٹر سائیکلوں پر سفر کرتا رہا اور دورانِ تفتیش یہ بھی معلوم ہوا کہ اْسے پاکستانی کرنسی میں کرایہ ادا کرنے میں دشواری پیش آ رہی تھی،یاد رہے کہ اسلام آباد کی کچہری پر منگل کو ہونے والے اس خودکش حملے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہوئیتھے۔بی بی سی کیمطابق اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس دھماکہ میں سکیورٹی حکام کا پانچ افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیاہے۔ادھرجوڈیشل کمپلیکس دھماکے میں افغان شہری کے ملوث ہونے کی تصدیق کے بعد راولپنڈی میں افغان باشندوں کے خلاف سرچ آپریشن تیز کر دیا گیا ، تھانہ نیو ٹائون راولپنڈی پولیس نے کارروائی کے دوران 22 افغان باشندوں کو گرفتار کرلیا جن میں چھ مرد، دس خواتین اور چھ بچے شامل ہیں