دوپہر تقریبا ساڑھے 12 بجے جوڈیشل کمپلیکس میں کھڑی گاڑی میں زور دار دھماکہ ہوا‘ آواز دور تک سنی گئی ‘ دھماکے سے گاڑی میں آگ لگ گئی ا‘قریب کھڑی گاڑیاں بھی آگ کی لپیٹ میں آگئیں‘خودکش حملہ آور کا سر بھی مل گیا
خودکش حملہ آور پیدل کچہری کے باہر پہنچا ،کچھ دیر تک گیٹ کے قریب بیٹھا رہا، بظاہر اندر جانا چاہتا تھا:ابتدائی رپورٹ‘وزیر داخلہ محسن نقوی ضلع کچہری پہنچ گئے، آئی جی اسلام آباد پولیس سے بریفنگ لی
اسلام آباد‘وانا(آئی این پی )اسلام آباد کچہری کے باہر فتنہ الخوارج کے خود کش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 30 زخمی ہوگئے۔ تفصیل کے مطابق اسلام آباد میں منگل کو دوپہر تقریبا ساڑھے 12 بجے جوڈیشل کمپلیکس میں کھڑی گاڑی میں زور دار دھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ دھماکے سے گاڑی میں آگ لگ گئی اور قریب کھڑی گاڑیاں بھی آگ کی لپیٹ میں آگئیں۔پولیس ذرائع کے مطابق دھماکا خودکش تھا اور جائے وقوعہ سے خودکش حملہ آور کا سر بھی مل گیا ہے، کچہری کے باہر دھماکے میں ہندوستانی حمایت یافتہ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج ملوث ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت کچہری ایریا میں لوگوں کی آمدورفت زیادہ تھی جس سے سائلین بھی زخمی ہوئے، دھماکے کے بعد عمارت خالی کرا لی گئی، وکلا، ججز اور سائلین کو کچہری سے نکال دیا گیا، جوڈیشل کمپلیکس کے عقبی حصے کی طرف سے شہریوں اور وکلا کو نکالا گیا، ججز کو بھی روانہ کر دیا گیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی ضلع کچہری پہنچ گئے، آئی جی اسلام آباد پولیس سے بریفنگ لی۔ خودکش دھماکے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق خودکش حملہ آور پیدل کچہری کے باہر پہنچا اور کچھ دیر تک گیٹ کے قریب بیٹھا رہا، کچہری کے اندر جانے والوں کی چیکنگ جاری تھی بظاہر حملہ آور اندر جانا چاہتا تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ خودکش حملہ آور سکیورٹی چیکنگ کے باعث رک گیا، اس نے سڑک پر دھماکے سے خود کو اڑا لیا، حملے کے وقت 35 سے 40 افراد موقع پر موجود تھے۔دریں اثناء سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ کیڈٹ کالج وانا میں موجود تمام طلبہ اور اساتذہ کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق اب تک350 افراد کو باحفاظت ریسکیو کرلیا گیا اور تمام کیڈٹس محفوظ ہیں۔