الطاف احمد خان یوسفزئی
پاکستان کے بڑے شہروں، خصوصاً لاہور، کراچی، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد، پشاور اور کوئٹہ میں شاید ہی کوئی ایسا چوک، ٹریفک سگنل، بازار، مسجد یا مزار ہو جہاں بھیک مانگنے والے افراد موجود نہ ہوں۔ ان میں معصوم بچے، خواتین، بزرگ، نوجوان اور معذور افراد بھی شامل ہوتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد پیشہ ور بھکاریوں کے منظم گروہوں یا مافیاز کے زیرِ اثر کام کرتی ہے، جو بچوں اور کمزور افراد کو بطور ذریعہ استعمال کرکے روزانہ لاکھوں روپے کماتے ہیں۔یہ مسئلہ صرف غربت کا نہیں بلکہ ایک سماجی، معاشی اور انتظامی چیلنج بھی ہے۔ ایک طرف ملک کو ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت ہے، دوسری طرف ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد ایسی سرگرمی میں مصروف ہیں جو نہ صرف ملکی معیشت میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کرتی بلکہ ان کی اپنی عزتِ نفس اور مستقبل کو بھی متاثر کرتی ہے۔
اسلام نے محنت کو عبادت قرار دیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:اور انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔
(سورۃالنجم: 39)
اسی طرح رسول اللہ نے فرمایا:اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اسلام ضرورت مند کی مدد کا حکم دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی محنت، خودداری اور حلال روزی کمانے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور اسے مستقل طور پر بھیک پر لگا دیا جائے تو یہ اس کی خود اعتمادی اور صلاحیتوں کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے خیرات کا بہترین مصرف وہ ہے جو کسی انسان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر دے۔اس مسئلے کے حل کے لیے محض پولیس کارروائیاں کافی نہیں ہوں گی۔ حکومت کو ملک گیر سطح پر جدید ری ہیبلیٹیشن سینٹرز قائم کرنے چاہییں جہاں بھکاریوں کی رجسٹریشن، طبی معائنہ، نفسیاتی بحالی، تعلیم اور فنی تربیت کا انتظام ہو۔ بچوں کو لازمی تعلیم میں شامل کیا جائے، جبکہ خواتین کو سلائی، کڑھائی، دستکاری، نٹنگ، فوڈ پروسیسنگ اور دیگر گھریلو صنعتوں کی تربیت دی جائے۔ مردوں کو زراعت، تعمیرات، مشین آپریشن، الیکٹریشن، پلمبنگ، ویلڈنگ، باغبانی اور دیگر فنی مہارتیں سکھائی جائیں تاکہ وہ باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔
پاکستان کے مختلف حصوں میں وسیع رقبہ ایسا موجود ہے جہاں جدید منصوبہ بندی کے ذریعے زرعی اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان، چولستان، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور اور دیگر کم ترقی یافتہ علاقوں میں اگر پانی، بنیادی انفراسٹرکچر اور صنعتی زون قائم کیے جائیں تو نہ صرف مقامی آبادی بلکہ بحالی کے مراکز سے تربیت یافتہ افراد کو بھی روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اس سے شہروں پر آبادی کا دباؤ کم ہوگا اور دور افتادہ علاقوں کی ترقی بھی ممکن ہوگی۔تاہم یہ ضروری ہے کہ ایسے تمام اقدامات آئین، انسانی حقوق اور قانون کے مطابق ہوں۔ بحالی مراکز کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ انسانوں کو دوبارہ معاشرے کا باعزت اور پیداواری حصہ بنانا ہونا چاہیے۔ منظم بھکاری مافیاز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، جبکہ حقیقی مستحق، یتیم، معذور اور بے سہارا افراد کو سماجی تحفظ، وظائف اور مناسب فلاحی سہولیات فراہم کی جائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ صنعتی منصوبہ بندی میں بھی توازن کی ضرورت ہے۔ زرعی زمین پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہے۔ اگر بہترین زرعی اراضی پر بے ہنگم انداز میں ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور صنعتیں قائم ہوتی رہیں تو غذائی تحفظ اور زرعی پیداوار دونوں متاثر ہوں گے۔ نئی صنعتوں کے لیے ایسے علاقوں کو ترجیح دی جانی چاہیے جہاں زرعی صلاحیت محدود ہے اور جہاں انفراسٹرکچر کی فراہمی سے نئے معاشی مراکز وجود میں آ سکتے ہیں۔معاشرے کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ ٹریفک سگنلز، بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر اندھا دھند بھیک دینے کے بجائے مستند فلاحی اداروں، زکوٰ? فنڈز اور بحالی کے پروگراموں کی مدد کی جائے تاکہ امداد حقیقی مستحقین تک پہنچے اور پیشہ ور بھکاری مافیا کی حوصلہ شکنی ہو۔پاکستان کے پاس نوجوان آبادی، وسیع قدرتی وسائل اور محنتی افراد کی کمی نہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ بھیک مانگنے والی اس بڑی افرادی قوت کو ہنرمند، باعزت اور پیداواری شہری بنایا جائے۔ اگر حکومت، نجی شعبہ، فلاحی ادارے اور عوام مل کر ایک جامع قومی بحالی پروگرام تشکیل دیں تو یہی لوگ ملکی معیشت پر بوجھ بننے کے بجائے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہی ایک مضبوط، خوددار اور خوشحال پاکستان کی سمت درست قدم ہوگا۔