احتجاج کی قیادت تحریک انصاف کی لیڈرشپ کرے گی، رہنماؤں کو جامع احتجاجی پلان دے دیا ‘ ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، احتجاج کو لیڈ کرنے اور ختم کرنے کا اختیار اس کمیٹی کے پاس ہوگا، مذاکرات کرنے کا اختیار بھی کمیٹی کے پاس ہوگا
آئینی ترمیم کالعدم قرار دی جائے‘چوری شدہ مینڈیٹ واپس کیا جائے‘بغیر ٹرائل گرفتار سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے‘پیارے پاکستانیو! اب کی با رہم نے مطالبا ت کی منظوری تک واپس نہیں لوٹنا:بانی پی ٹی آئی کا جیل سے پیغام
راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)بانی پی ٹی آئی نے 24نومبر کو احتجاج کے لئے فائنل کال دے دی‘اڈیالہ جیل سے قوم کے نام پیغام میں انہوں نے کہا ہے میرے پاکستانیو! میں نے جتنا ہو سکا ملک و قوم کی خاطر ہر قربانی دی، اور انشاء اللہ خون کے آخری قطرے تک آپ کی حقیقی آزادی کے لیے لڑتا رہوں گا۔یہ جنگ صرف عمران خان کی نہیں، پوری قوم کی ہے،اگر ہم آج اس ظلم و ستم کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو ہماری آئندہ نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی، جمہور کی طاقت سے ظلم کے نظام کے خاتمے کا وقت آ پہنچا ہے، 24 نومبر کو آپ سب نے اسلام آباد پہنچنا ہے۔آئینی ترمیم کے ذریعے 10 سال کے لئے غیر اعلانیہ مارشل لاء لگا دیا گیا ہے،ملک میں بوگس پارلیمنٹ، بوگس وزیراعظم، بوگس صدر اور بوگس جمہوریت ہے، اس وقت جنرل مشرف سے زیادہ خوفناک ڈکٹیٹر شپ قائم ہے، قانون کی بالادستی جمہوریت ا?زادی اور ملک کے مستقبل کو ختم کر دیا گیا ہے،اپنے سہولت کاروں کی مدد سے مینڈیٹ چوری کر کے ملک پر قابض مافیا کے زیر انتظام جاری فسطائیت کے نظام، آئین و قانون اور عدلیہ پر مسلسل حملوں، ہمارے بے گناہ لوگوں کو زندان میں میں ڈالنے والی جعلی حکومت کو بتانا ہو گا کہ قوم کو یہ سب نامنظور ہے۔ احتجاج کی قیادت تحریک انصاف لیڈرشپ کرے گی، میں نے پارٹی رہنماؤں کو جامع احتجاجی پلان دے دیا ہے، میں نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، احتجاج کو لیڈ کرنے اور ختم کرنے کا اختیار اس کمیٹی کے پاس ہوگا، مذاکرات جب کرنے ہونگے جس سے بھی کرنے ہوں گے، ہینڈلرز جس کسی کو آگے کریں گے ہماری کمیٹی ان سے مذاکرات کرے گی-میں اپنی پارٹی قیادت کو یہ ہدایت کرتا ہوں کہ احتجاج کی جامع منصوبہ بندی کریں اور اپنے حلقے کے لوگوں کو اس کے حوالے سے مکمل آگاہی دے کر ایک بھرپور لیکن پرامن احتجاج کے لیے تیار کریں۔ جہاں یہ احتجاج پارٹی لیڈرز، ممبران اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز، ناظمین، اور صوبائی و مقامی تنظیموں کا امتحان ہے، وہیں یہ ہر طبق? فکر سے تعلق رکھنے والے عام آدمی کا بھی امتحان ہے، میں ہر طبقے بشمول اپنے کاروباری طبقے، سول سوسائٹی، قانونی برادری، کسانوں، ریڑھی بانوں، تنخواہ دار طبقے سے کہتا ہوں کہ اسلام آباد پہنچیں‘میرے نوجوان اور طلباء ، جن کا مستقبل بالخصوص داؤ پر ہے، ان کو یہ ہدایت دینا چاہتا ہوں کہ آپ نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے، اپنے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی میرا یہ پیغام ہے کہ قوم کے مستقبل کی خاطر دنیا بھر میں احتجاج کا حصہ بنیں اور پارٹی کی فنڈنگ میں بھی بھرپور حصہ لیں- مجھے اپنی قوم پر مکمل بھروسہ ہے اور میں یہ پیشنگوئی کر رہا ہوں کہ 24 نومبر کو پورا پاکستان اسلام آباد پہنچے گا اور عوام کا سمندر ہر رکاوٹ اور کنٹینر کو بہا لے جائے گا،اس دن یک زبان ہو کر پوری قوم کے یہی مطالبات ہوں گے۔آ ٓئینی ترمیم کالعدم قرار دے کر آئین کو اپنی پرانی حالت میں بحال کیا جائے‘چوری شدہ مینڈیٹ واپس کیا جائے‘بغیر ٹرائل گرفتار سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے‘پیارے پاکستانیو! اب کی با رہم نے اپنے مطالبا ت کی منظوری تک واپس نہیں لوٹنا‘دریں اثناء وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کاکہنا ہے احتجاجی کی تاریخ کا اعلان ہوگیا، ہماری تیاری پہلے ہی مکمل تھی ، جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے واپسی نہیں ہوگی ۔