9 نومبر کو صوابی میں جلسہ ہوگا‘احتجاج کی فائنل کال دیں گے(علی امین گنڈا پورا)

ہم سروں پر کفن باندھ کر نکلیں گے،پورے ملک سے لوگوں کو جمع کریںگے‘ اپنے گھروالوں کو بھی بتا کر نکلوں گا جو ہوگا دیکھا جائے گا
حکومت سمیت سب کو وارننگ دے رہے ہیں ‘اب حالات ناقابل برداشت ہیں، ہم گورنر راج سے نہیں ڈرتے: میڈیا سے گفتگو

راولپنڈی(آئی این پی)وزیر اعلی کے پی کے علی امین گنڈا پور نے حکومت کو خبر دار ہوتے ہوے کہا ہے آے روز نئے مقدمات بناے جارہے ہیں،حکومت سے جان چھڑانے کے لیے فائنل راؤنڈ کے لیے تیاری کر رہے ہیں،ہم نے 17 حملے کئے تھے پانی پت پر ابھی تو صرف دو کئے ہیں۔پشاور جلسہ نہیں اجتماع کرنے جارہے ہیں،جو ہو گا دیکھا جاے گا،ہفتہ کے روز ایک ماہ بعد بانی پی ٹی آئی سے عدالت کے حکم پر ملاقات کے بعد علی امین گنڈا پور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے بڑے عرصے بعد ملاقات ہوئی۔ان کے ساتھ روا رکھا جارہا سلوک قابل مذمت ہے۔حکومت کو متنبہ کرتے ہوے انھوں نے کہا کہ میں خبر دار کررہا ہوں یہ رویہ قابل برداشت نہیں۔ہم نے ایک پلان بنایا ہے اس پر کام شروع ہے۔فائنل کال کیلئے تیار ہیں۔ حکومت سے جان چھڑانی پڑے گا۔یہ حکومت میڈیٹ چور ہے فارم 47 کی حکومت ہے۔ان کا کہنا تھا کی ہم سروں پر کفن باندھ کر نکلیں گے۔ہر روز نئے مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔جو اب برداشت سے باہر ہیں،ان کابکہنا تھابکہ نو تاریخ کو صوابی کے مقام پر ایک بڑا اجتماع کرینگے۔پہلے ہم نے جلسے کا اعلان کیا تھا اب اجتماع کرینگے۔پورے ملک سے لوگوں کو جمع کریںنگے۔نو نومبر کو فائنل کال دینگے۔علی امین نے کہا کہ میں اپنے گھروالوں کو بھی بتا کر نکلوں گا جو ہوگا دیکھا جائے گا۔جلسہ ہم نے منسوخ نہیں کیا ہم اجتماع کی صورت میں جمع ہونگے۔انھوں نے کہا کہ حکومت سمیت سب کو وارننگ دے رہے ہیں اب حالات ناقابل برداشت ہیں۔ہم نو نومبر کو لائحہ عمل دینگے۔انھوں نے کہا کہ ہر بندہ تجزیہ نگار بنا ہوا ہے ڈیل ہوگئی۔میرا پارٹی کے ورکرز کو پیغام ہے یہ لوگ آپ کو کنفیوز کریںنگے۔میں سچ بات کرتا ہوں سب کو معلوم ہے پارٹی کیلئے کس نے کیا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بشری بی بی کو ناحق جیل میں ڈالا ہوا تھا۔انھوں نے کہا کہ میرے اوپر چھ اضلاع میں مقدمات ہیں۔علی امین نے کہا کہ میں جب ڈی چوک سے گیا بتا کے گیا تھا۔میرے پیچھے جو لوگ آئے وہ کون تھے۔ہم نے ثابت کیا ہم آسکتے ہیں پر امن آسکتے ہیں۔انہوں نے کے پی ہاس پر حملہ کیا۔انھوں نے الزام لگایا کہ میرے موبائل فون میرے کمرے سے لے گئے۔میرا سامان بھی گاڑی سے لے گئے تھے۔موبائل فون ابھی تک واپس نہیں ملے۔جو موبائل انہوں نے لیا وہ واش ہوچکے تھے انکو کچھ نہیں ملا۔ان کا کہنا تھا کہ میں ایک صوبے کا وزیر اعلی ہوں میں اتھارٹی سے اسلام آباد آیا ہوں مشینری بھی لایا ہوں۔انھوں نے کہا کہ ہم گورنر راج سے نہیں ڈرتے۔