منی بجٹ کا خطرہ ٹل گیا‘پٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی نہیں لگے گا(آئی ایم ایف کا ٹیکس محصولات پراظہار  اطمینان)

مذاکرات کے 2دور‘ حکومت کی معاشی ٹیم کی طرف سے آئی ایم ایف کو زرعی ٹیکس اگلے سال سے وصول کرنے کی یقین دہانی کرا دی گئی
 پاکستان  تمام ممالک کے سرمایہ کاروں کیساتھ یکساں میرٹ قائم کرے:آئی ایم ایف ‘ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی کارکردگی پراظہار اطمینان

اسلام آباد(آن لائن‘مانیٹرنگ  ڈیسک)پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے درمیان متعدد نکات پر اتفاق ہوگیا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن اورحکومت کی معاشی ٹیم کے درمیان بدھ کو مذاکرات کے 2 دور ہوئے، پاکستان اور آئی ایم ایف میں اتفاق ہوا ہے کہ منی بجٹ نہیں آئے گا، پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس بھی نہیں لگے گا۔ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹ مطابق حکومت کی معاشی ٹیم کی طرف سے آئی ایم ایف کو زرعی ٹیکس اگلے سال سے وصول کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔آئی ایم ایف مشن کو گراس فنانسنگ اور ڈیبٹ میچورٹی پر بریفنگ دی گئی، مذاکراتی ادوار میں مقامی قرض پر تفصیلی گفتگو بھی ہوئی۔وزارت خزانہ کے حکام نے آئی ایم ایف مشن کو مقامی قرض پر بریفنگ دی، جس پر عالمی مالیاتی ادارے کے مشن نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔بریفنگ میں معاشی ٹیم نے بتایا کہ حکومت مقامی قرض کو بتدریج کم کررہی ہے جبکہ ادائیگیوں کی مدت بھی بڑھا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر حکام نے آئی ایم ایف مشن کو حکومتی سطح پر ڈیجٹلائزیشن اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس اقدامات کے بعد ریونیو وصولیوں میں بہتری پر بریفنگ دی۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف نے جن نکات پر اتفاق کیا ہے، ان میں منی بجٹ نہیں آئے گا، 12 ہزار 970 ارب کا ہدف برقرار رہے گا۔فریقین میں اتفاق رائے ہوا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس بھی نہیں لگایا جائے گا جبکہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 8 اعشاریہ 8 سے بڑھ کر 10 اعشاریہ 3 فیصد ہونے پر آئی ایم ایف مطمئن ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔آئی ایم ایف نے کہا پاکستان تمام ممالک کے سرمایہ کارو ں کے ساتھ یکساں میرٹ قائم کرے