پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا خدشہ‘اگلے مالی سال ٹیکس ہدف میں00 16 ارب سے زائد اضافے کی تجویز دے دی
نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ ختم ‘ چھوٹے کاروبار اور تاجروں پراثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگایا جائے:عالمی ادارے کی شرائط‘وفداگلے ماہ پاکستان آئیگا
اسلام آباد(آن لائن)عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) نے پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگانے کا مطالبہ کردیا،
پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔عالمی مالیاتی ادارے نے حکومت کونئے مطالبات کی فہرست تھما دی۔،اگلے مالی سال ٹیکس ہدف میں 16سو ارب روپے سے زائد اضافے کی تجویز دے ،عالمی مالیاتی ادارے نے پیٹرول سمیت ایندھن پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگانے کا مطالبہ کیا ہے،اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح صفر ہے۔آئی ایم ایف نے سولرصارفین پر بھی 18 فیصد ٹیکس عائد کرنے پر زور دیاہے اورنئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔آئی ایم ایف نے چھوٹے کاروبار اور تاجروں پراثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے اور نئے بجٹ میں ٹیکس ہدف 15 ہزار 600 ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز دی ہے۔ذرائع کے مطابق رواں سال 14 ہزار 131 ارب کا ہدف کم کرکے 13 ہزار 979 ارب رکھا گیا تھا،ہدف میں 152 ارب کمی کے باوجود 8 ماہ میں 428 ارب روپے شارٹ فال ہوا۔حکام ایف بی آر کے مطابق مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں ٹیکس وصولی میں کمی 600 ارب سے بڑھنے کا خدشہ ہے،آئی ایم ایف وفدکی آئندہ ماہ پاکستان آمد کا امکان ہے، جس میں ایف بی آر کی کمزور کارکردگی بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئے گی۔