اسلام آباد ہائیکورٹ میں بشریٰ بی بی سے فیملی ملاقات، ذاتی معالج تک رسائی اور ضروری سامان فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی، جبکہ درخواست گزار کی جانب سے سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بشریٰ بی بی کی باقاعدہ ہفتہ وار ملاقاتیں نہیں کروائی جا رہیں اور بعض اوقات صرف ایمرجنسی بنیادوں پر مختصر ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے۔سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ 24 فروری 2026 کے بعد کئی ہفتوں تک ملاقات نہیں کروائی گئی، اور صرف 17 اپریل کو ایک ایمرجنسی ملاقات کروائی گئی، وہ بھی اس وقت جب ان کی طبی حالت کے باعث آپریشن کا مرحلہ تھا۔ ان کے مطابق قیدی کو مسلسل فیملی سے دور رکھنا قانونی اور انسانی حقوق کے منافی ہے۔انہوں نے دلائل میں کہا کہ بشریٰ بی بی بیمار ہیں اور ان کی سرجری ہو چکی ہے، اس کے باوجود باقاعدہ طبی سہولیات اور معالج تک رسائی محدود رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ملاقاتوں پر پابندی کی کوئی واضح قانونی خلاف ورزی ثابت نہیں کی گئی، اس لیے اس نوعیت کی سخت پابندیاں مناسب نہیں۔
سماعت کے دوران جیل رول 265 اور ملاقاتوں کی اجازت سے متعلق قانونی نکات پر بھی بحث ہوئی۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بعض اوقات ملاقاتوں کی بندش کو غیر واضح بنیادوں پر طویل کر دیا جاتا ہے، جس سے قیدی کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔دوسری جانب ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے حکومت کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے پاس قیدی کی سکیورٹی اور نظم و ضبط کے تحت ملاقاتوں سے متعلق صوابدیدی اختیار موجود ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی ملاقات یا سہولت کی اجازت قانون اور جیل قواعد کے مطابق دی جاتی ہے۔انہوں نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر بھی اعتراض اٹھایا اور کہا کہ اگر کسی فیصلے پر اعتراض ہو تو اس کے لیے متعلقہ اپیلیٹ فورم موجود ہے۔
سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل نے یہ بھی کہا کہ قیدی کی سرگرمیوں اور بیرونی رابطوں سے متعلق حساس صورتحال کو مدنظر رکھا جاتا ہے تاکہ امن و امان متاثر نہ ہو۔دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے بشریٰ بی بی کی فیملی ملاقات، ڈاکٹر تک رسائی اور دیگر سہولیات سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔