مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر تجارت کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
انڈسٹری ڈیٹا کے مطابق، خلیج میں حملوں کے خدشات کی وجہ سے کئی جہاز طویل اور مہنگے متبادل راستوں کا استعمال کر رہے ہیں، جس سے ایندھن اور سامان کی ترسیل کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، تیل کی سپلائی میں کمی نے بحری جہازوں کے ایندھن کی قیمت میں بھی اضافہ کیا ہے۔ ہاپاگ لائیڈ کے سی ای او رولف ہیبن جانسن کے مطابق، کمپنی کو خلیج اور اس کے قریب بکنگ روکنی پڑی ہے کیونکہ وہاں جہازوں کی آمد و رفت مشکل ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ کے سبب کمپنی کے ہفتہ وار اخراجات 40 سے 50 ملین ڈالرز تک بڑھ گئے ہیں، جن میں ایندھن، انشورنس، کنٹینر اسٹوریج اور ٹرانسپورٹ شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، تیل بردار جہازوں کی چارٹرنگ لاگت میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ بڑے خام تیل بردار جہاز (سوئز میکس) کی یومیہ آمدن، جو چارٹرنگ کی قیمت کا ایک اہم پیمانہ ہے، 3 لاکھ 30 ہزار ڈالرز سے اوپر پہنچ گئی ہے، جو کہ کئی گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح، مائع قدرتی گیس لے جانے والے جہازوں کی آمدن بھی 90 ہزار ڈالرز یومیہ تک جا پہنچی ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل انرجی کے ماہر پیٹر نورفولک کے مطابق، خلیج سے چین تک خام تیل کی ترسیل کی لاگت چند ہفتوں میں 46 ڈالرز فی میٹرک ٹن سے بڑھ کر تقریباً 64 ڈالرز تک پہنچ گئی، حالانکہ کچھ کمی کے بعد یہ قیمت کم ہو کر یہ سطح پر آ گئی ہے۔
کنسلٹنسی کے مطابق، کنٹینرز کی ترسیل کے اخراجات میں 20 سے 25 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور بعض روٹس پر وار سرچارجز کی وجہ سے نرخوں میں 200 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث کمپنیوں نے بکنگ معطل کر دی ہے اور مال کو متبادل ہبز پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ جہازوں کے ایندھن، یعنی بنکر فیول، کی قیمت بھی تقریباً دگنی ہو گئی ہے، اور مارچ میں 1053 ڈالرز فی میٹرک ٹن کی بلند ترین سطح پر پہنچی تھی، حالانکہ مہینے کے آخر میں یہ 936 ڈالرز کے قریب رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ، انشورنس کے اخراجات میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے۔ جنگی خطرے کی بیمہ گزشتہ ہفتے جہاز اور سامان کی مجموعی قیمت کا 10 فیصد تک جا پہنچی ہے، جس سے شپنگ انڈسٹری پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔