بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی دھمکیوں پر عالمی بینک نے اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ معطل نہیں کیا جا سکتا۔
عالمی بینک کے صدر نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں معطلی کی اجازت کی کوئی شق نہیں ہے، اور عالمی بینک کا اس معاہدے میں کردار صرف سہولت کاری کا ہے، ثالثی کا نہیں۔عالمی بینک کے صدر نے مزید کہا کہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں کہ عالمی بینک اس مسئلے کو حل کرے گا۔ معاہدہ کسی بھی صورت میں ختم کرنے یا اس میں تبدیلی کے لیے دونوں ممالک کی رضا مندی ضروری ہے، اور اس حوالے سے معاہدے میں واضح شرائط موجود ہیں۔عالمی بینک کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس میں تبدیلی یا خاتمے کے لیے دونوں فریقین کی رضامندی کی ضرورت ہے۔
عالمی بینک کا مقصد اس معاہدے کی حمایت کرنا اور اس کے تحت فنی تعاون فراہم کرنا ہے، نہ کہ کسی ایک فریق کے مفادات کی حمایت کرنا۔یہ ردعمل بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے حالیہ دھمکیوں کے بعد آیا ہے، جس میں بھارت نے پاکستان کے ساتھ اس معاہدے پر مزید بات چیت کے لیے عالمی بینک کو مداخلت کرنے کی درخواست کی تھی۔ عالمی بینک نے اس بات کو مسترد کرتے ہوئے اس معاملے میں اپنی غیر جانبداری کا اظہار کیا ہے۔