وزیراعظم شہباز شریف نے آبی ذخائر پر اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو ہتھیار کی طرح استعمال کر رہا ہے اور پانی کی تقسیم کے معاہدے کی خلاف ورزی کو اپنے بیانیے کا حصہ بنا کر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عظیم فتح دی، جس پر شکر ادا کرنا کم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ شکر کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم محنت کریں اور 24 کروڑ عوام کے لیے معاشی میدان میں روشن مستقبل تشکیل دیں۔شہباز شریف نے بھارتی پانی کی بندش اور دھمکی آمیز بیانیے کو عالمی سطح پر یکسر مسترد کیا اور کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبی وسائل کا تحفظ ایک اجتماعی چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ چاروں صوبوں کے عوام کی پانی کی ضروریات حکومت کی اولین ترجیح ہیں، اور بھارت کی آبی جارحیت کا جواب ویسی ہی جرات و حکمت سے دیا جائے گا جیسے ہم نے روایتی جنگ میں دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی آبی معاہدوں کے تحت اپنے حقوق کے لیے مؤثر آواز بلند کرے گا اور ہمیں خود کو بھارت کے مقابلے کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ ہمیں اپنے آبی ذخائر خود بڑھانے ہوں گے کیونکہ اگر آج اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔