بیٹری ختم ہو نے پر بسیں سڑک پر ہی رک جاتی ہیں نظام کو وسعت دینے کا فیصلہ
لاہور (خصوصی رپورٹ )پنجاب میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے خواب کے ساتھ شروع ہونے والا الیکٹرک بس منصوبہ اب ایک بڑے سوال کے ساتھ کھڑا ہے۔بسیں تو سڑکوں پر آگئیں مگر چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی نے نظام کو مشکلات سے دوچار کر دیا۔حکومت نے ایک ہزار چارجنگ سٹیشنز اور جدید سہولتوں کا اعلان کیا تھا، مگر عملی پیش رفت محدود رہی۔نتیجہ یہ کہ بیٹری ختم ہو جائے تو بسیں سڑک پر رک جاتی ہیں اور انہیں ٹوچن کے ذریعے واپس ڈپو منتقل کرنا پڑتا ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبے میں جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ متعارف کرانے کے لیے الیکٹرک بس اور الیکٹرک ٹیکسی منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ منصوبے کے تحت پورے پنجاب میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ انفراسٹرکچر قائم کرنے اور مرحلہ وار نظام کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔حکومتی منصوبہ بندی کے مطابق پہلے مرحلے میں ایک ہزار الیکٹرک گاڑی چارجنگ اسٹیشن قائم کیے جانے تھے جبکہ نجی شعبے کو بھی اس منصوبے میں شامل کرنے کی پالیسی سامنے آئی تھی۔ اسی حکمت عملی کے تحت ہر پیٹرول پمپ کو درخواست دینے پر دو سے چار چارجنگ ٹرمینلز لگانے کی اجازت دینے کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ شہریوں کو چارجنگ کی سہولت آسانی سے میسر آ سکے۔ابتدائی مرحلے میں لاہور، قصور، ننکانہ صاحب، شیخوپورہ اور فیصل آباد میں چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا جبکہ گوجرانوالہ، سرگودھا اور جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں کو بھی اس نیٹ ورک میں شامل کرنے کا اعلان کیا گیا۔اسی مالی سال کے دوران گیارہ سو الیکٹرک ٹیکسیوں کو سڑکوں پر لانے اور الیکٹرک بسوں کے ساتھ ساتھ انہیں بھی مختلف شہروں میں چلانے کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا تاکہ شہریوں کو جدید اور کم خرچ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔اس سلسلے میں فروری دو ہزار پچیس میں لاہور میں پہلی مرتبہ الیکٹرک بس سروس کا آغاز کیا گیا جس کے بعد مرحلہ وار پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی الیکٹرک بسوں کا دائرہ بڑھایا گیا۔ تاہم بس سروس کے پھیلا ئو کے ساتھ چارجنگ انفراسٹرکچر کی رفتار ہم آہنگ نہ رہ سکی۔صورتحال یہ ہے کہ کئی مقامات پر چارجنگ اسٹیشن نہ ہونے کے باعث بسوں کی چارجنگ کا نظام مسائل کا شکار ہے۔ بجلی کی بندش کی صورت میں الیکٹرک بسوں کی چارجنگ متاثر ہوتی ہے جبکہ بعض اوقات سڑک پر بیٹری ختم ہونے کی صورت میں بسوں کو ٹوچن کے ذریعے واپس ڈپو منتقل کرنا پڑتا ہے۔یوں الیکٹرک بس منصوبہ تو بتدریج آگے بڑھ رہا ہے مگر چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی اس جدید ٹرانسپورٹ نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔