الیکٹرک گاڑیاں‘ چارجنگ سٹیشنوں کیلئے بجلی 45 فیصد سستی چند ماہ میں خطے کی سستی ترین بجلی فراہم کرینگے:اویس لغاری

چارجنگ سٹیشون کا این او سی 15 دنوں میں جاری کیا جائے گا، بین الاقوامی سطح پر اسے بہت بڑی کامیابی سمجھتے ہیں
 موٹرسائیکل، رکشوں، 800 سی سی کی چھوٹی گاڑیوں کے متبادل کے طور پر یہ اقدام عوام کے لئے بہت بڑا موقع ہے

اسلام آباد(بیورو رپورٹ‘ایجنسیاں)شہریوں کو ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں سے الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل کرنے  کے لیے حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا۔وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری  نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ عوام کے لیے بجلی کی قیمت کم کرنے اور ایندھن والی گاڑیوں کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے فیصلے جن کا تعلق عوام سے ہوتا ہے، ہم آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس سال گردشی قرضے میں 12 ارب کی کمی کی ہے۔ ڈسٹریبیوشن کمپنیز نے پچھلے سال 240 ارب کا نقصان کیا جو ہم نے اس سال 170 ارب سے بڑھنے نہیں دیا۔یہ بورڈز کے غیر سیاسی اور بہتر گورننس   ہونے کا 53 ارب روپے کا فائدہ ہے جو پہلے 5 ماہ میں قوم کو ملا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملک میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے لیے  ہر جگہ پر چارجنگ اسٹیشنز نہیں ہیں، اس نئے کاروبار کی حوصلہ افزائی اور شہریوں کو سستا متبادل فراہم کرنے کے لیے حکومت چارجنگ اسٹیشنز کے لیے بجلی کے ٹیرف میں 45 فیصد کمی کررہی ہے۔ الیکٹرک موٹر سائیکل پر منتقل ہونے سے 77 فی صد تک کی بچت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ الیکٹرک وہیکل کے لیے 15 دن کے اندر پورٹل سے اجازت نامہ مل جائے گا، اس سلسلے میں کسی افسر سے بات نہیں کرنی پڑے گی ۔ اسی طرح بجلی کی قیمت 71 روپے سے کم کرکے 39 روہے پر لائی جا رہی ہے۔اویس احمد لغاری کا کہنا تھا کہ کل ہم نے ایک بہت بڑا فیصلہ کیا۔ صنعت کار شکایات کرتے ہیں کہ آپ کا ایکس سی این، چیف انجینئر یا دیگر حکام لوڈ بڑھانے یا نئے کنکشنز اور بلنگ کے معاملات میں ہمیں تنگ کرتے ہیں۔ ہمیں ان مسائل کے حل کے لیے ون ونڈو آپریشن چاپیے، جس پر وزیراعظم نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی میں  فیصلہ کیا، جس کے تحت تمام انڈسٹریل اسٹیٹس بشمول اسپیشل اکنامک زونز سب کو ایک ہی جگہ پر بجلی ملے گی، وہاں جو بھی بلنگ اور کنکشنز کے مسائل ہوں گے، وہ سب ایک ہی جگہ پر حل ہوں گے۔ اگلے چند ماہ میں پاکستان خطے کی سستی ترین بجلی کو لوگوں تک، انڈسٹری تک، صارفین تک پہنچانے کی پوزیشن میں آ جائے گا، جس میں بہت حد تک کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔