پختونخوا کے عوام اور بالخصوص حکمران جماعت کے کارکنان قابلِ رحم ہیں
پشاور (آئی این پی ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کی جانب سے سڑکوں پر گشت کرنے اور چیک پوسٹس قائم کرنے کے واقعات کو وزیر اعلیٰ کے خلاف سازش قرار دینا مضحکہ خیز اور عوام کی توہین ہے۔ اپنی نااہلی، ناکامی اور دہشتگردوں کی سہولت کاری کو سازش کا نام دینا حقیقت سے فرار کے سوا کچھ نہیں، صوبے پر مسلط ٹولہ سازش کا رونا رو کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر یہ سب ایک سازش ہے تو اس کی روک تھام کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ سب جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ دہشتگردوں کی حمایت اور وکالت کی ہے۔ 2013 کے انتخابات میں دہشتگردوں نے کس جماعت کو اپنے لیے قابلِ قبول قرار دیا تھا؟ وہ کون سی پارٹی تھی جس نے ان دہشتگرد گروہوں کو دفاتر دینے اور انہیں مین اسٹریم کرنے کی بات کی؟ چالیس ہزار دہشتگردوں کی آباد کاری اور ایک سو دو خطرناک دہشتگردوں کی رہائی کس کے دورِ حکومت میں ہوئی؟ دہشتگردوں کو “فائٹرز” قرار دینے والے اور انہیں بھتے دینے والے کون ہیں؟ کیا یہ بھی کوئی سازش تھی کہ انہی دہشتگردوں نے حکمران جماعت کے لیڈر کو اپنی مذاکراتی ٹیم کا حصہ بنایا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دہشتگردوں کے ساتھ مفاہمت اور انہیں دوبارہ آباد کرنے کی پالیسی اختیار کی، آج وہی عناصر اپنی پالیسیوں کے تباہ کن نتائج کو چھپانے کے لیے سازشوں کی کہانیاں گھڑ رہے ہیں