گلگت بلتستان میں معدومیت کے خطرے سے دوچار 4 نایاب برفانی تیندووں کی موجودگی کی تصدیق

گلگت بلتستان میں معدومیت کے خطرے سے دوچار 4 نایاب برفانی تیندووں کی موجودگی کی تصدیق

گلگت بلتستان میں 4 نایاب برفانی تیندووں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، جو علاقے کی حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی صحت کے لیے خوش آئند خبر ہے۔

 وائلڈ لائف واچر سخاوت علی اور گلگت بلتستان کے چیف کنزرویٹر پارکس اینڈ وائلڈ لائف ڈاکٹر ذاکر حسین نے ان برفانی تیندووں کی شاندار تصاویر گلگت بلتستان کے پہاڑوں سے حاصل کی ہیں۔برفانی تیندوا، جو دنیا کے نایاب اور معدومیت کے خطرے سے دوچار جانوروں میں شامل ہے، عموماً چھپ کر رہتا ہے اور ان کا اس طرح دکھائی دینا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ علاقے میں ان کی افزائش اور بہتر ماحولیاتی حالات کی علامت ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارے برفانی تیندووں کی حفاظت کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں ان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی ماحولیاتی نظام ابھی بھی ان جانوروں کے لیے موزوں ہے۔ مقامی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگلی حیات کے تحفظ میں تعاون کریں اور ان نایاب جانوروں کے بارے میں کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع دیں۔ یہ دریافت پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں میں ایک مثبت قدم قرار دی جا رہی ہے، اور ماحولیاتی ماہرین امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں برفانی تیندووں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔