افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی مبینہ موجودگی سے متعلق ایک بین الاقوامی جریدے کی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں پاکستان کے مؤقف کی تائید کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یورپی جریدہ ماڈرن ڈپلومیسی نے کہا ہے کہ افغانستان میں مختلف دہشتگرد گروہ موجود ہیں جو نہ صرف ملک کے اندر سرگرم ہیں بلکہ پڑوسی ممالک خصوصاً پاکستان کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متعدد شدت پسند گروہ، جن میں "فتنہ الخوارج" اور دیگر تنظیمیں شامل ہیں، مشرقی افغانستان کے علاقوں خصوصاً کنڑ اور ننگرہار میں موجود ہیں۔ ان علاقوں کو مبینہ طور پر سرحد پار کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں 20 سے زائد علاقائی اور بین الاقوامی دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو مبینہ طور پر افغانستان کی سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان گروہوں کی موجودگی خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے، جبکہ دہشتگردی کے نیٹ ورکس کو لاجسٹک سپورٹ اور پناہ گاہیں ملنے کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس صورتحال کے باعث افغان طالبان حکومت کو عالمی سطح پر تنقید اور تنہائی کا سامنا ہے، اور انسانی حقوق و سیکیورٹی پالیسیوں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔پاکستانی مؤقف کے مطابق افغانستان کی سرزمین سے سرگرم یہ عناصر سرحدی سیکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا جاتا رہا ہے۔