ایران کے میزائل حملوں کے بعد امریکا کا اسرائیل کو دفاعی مدد فراہم کرنے کا اعلان، پیٹریاٹ اور تھاڈ سسٹمز تعینات

ایران کے میزائل حملوں کے بعد امریکا کا اسرائیل کو دفاعی مدد فراہم کرنے کا اعلان، پیٹریاٹ اور تھاڈ سسٹمز تعینات

واشنگٹن / یروشلم : مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر امریکا نے اسرائیل کو دفاعی معاونت فراہم کرنے کے لیے جدید فضائی دفاعی نظام اور بحری جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں۔

 امریکی حکام کے مطابق یہ اقدامات ایران کے حالیہ میزائل حملوں کے بعد اسرائیلی سیکیورٹی انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

پیٹریاٹ اور تھاڈ سسٹمز اسرائیل میں نصب
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکا نے پیٹریاٹ (Patriot) اور ٹرمینل ہائی الٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (THAAD) سسٹمز کو اسرائیل میں مختلف اسٹریٹیجک مقامات پر نصب کر دیا ہے۔ ان سسٹمز کی مدد سے ایران یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے ممکنہ بیلسٹک میزائل حملوں کو مؤثر انداز میں روکنے یا تباہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

امریکی بحریہ بھی متحرک، USS Thomas Hudner مشرقی بحیرہ روم پہنچ گئی
امریکی حکام نے بتایا ہے کہ بحری دفاع کو مزید فعال بنانے کے لیے امریکی بحریہ کا جنگی جہاز USS Thomas Hudner جو کہ میزائل دفاعی صلاحیتوں سے لیس ہے، مغربی بحیرہ روم سے مشرقی بحیرہ روم کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے۔

مزید امریکی فوجی وسائل مشرق وسطیٰ منتقل کیے جا رہے ہیں
امریکا کی جانب سے مختلف مقامات سے اضافی فوجی وسائل اور عسکری تنصیبات کو بھی مشرق وسطیٰ کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایرانی حملوں کی صورت میں خطے میں موجود اتحادیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری جواب دینا ہے۔

سیاسی تناظر اور دفاعی تعاون
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کا یہ اقدام اسرائیل کے ساتھ اس کی مضبوط دفاعی وابستگی کا عکاس ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب ایران کی جانب سے براہِ راست حملوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔امریکی وزیردفاع اور صدر کی جانب سے بھی حالیہ دنوں میں اس عزم کا اظہار کیا گیا تھا کہ اگر اسرائیل پر حملہ ہوا تو امریکا اس کے دفاع میں ساتھ کھڑا ہوگا۔