واشنگٹن: امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد امریکا کے جدید فضائی دفاعی نظاموں کے میزائل ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس پر امریکی فوجی قیادت کو تشویش لاحق ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق، جنگ کے آغاز کے بعد امریکی فوج اپنے ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (THAAD) نظام کے تقریباً 80 فیصد میزائل انٹرسیپٹرز استعمال کر چکی ہے، جبکہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے تقریباً نصف میزائل بھی خرچ ہو چکے ہیں۔رپورٹ میں باخبر ذرائع اور حالیہ فوجی انوینٹری جائزے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کے سینئر کمانڈرز نے نجی سطح پر اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ پینٹاگون کے مجموعی اسلحہ اور دفاعی میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔سی این این کے مطابق، اس سے قبل پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر میں کمی سے متعلق خدشات سامنے آ چکے تھے، تاہم اب پہلی مرتبہ تھاڈ سسٹم کے میزائلوں کی شدید کمی کی اطلاعات بھی منظرِ عام پر آئی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی دفاعی تیاری اور مستقبل میں ممکنہ فوجی کارروائیوں کے تناظر میں ان ذخائر کی بحالی امریکی محکمہ دفاع کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
تاہم امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے سی این این کی اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید فضائی دفاعی نظاموں کے میزائل تیار کرنے میں کافی وقت، جدید ٹیکنالوجی اور بھاری مالی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ اگر میزائل ذخائر واقعی اس حد تک کم ہو چکے ہیں تو امریکا کو اپنی دفاعی پیداوار اور سپلائی چین مزید مضبوط بنانا پڑ سکتی ہے۔واضح رہے کہ THAAD اور پیٹریاٹ امریکا کے اہم ترین فضائی دفاعی نظاموں میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور دیگر فضائی خطرات کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔