ایران-اسرائیل کشیدگی پر دنیا پریشان، عالمی رہنماؤں کا ہنگامی ردعمل

ایران-اسرائیل کشیدگی پر دنیا پریشان، عالمی رہنماؤں کا ہنگامی ردعمل

ویب ڈیسک: ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کو ایک نئی اور خطرناک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

 عالمی برادری نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو خطہ ایک بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران اسرائیل کشیدگی پر ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اجلاس میں مختلف ممالک کے نمائندوں نے سخت ردعمل دیا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اسرائیلی حملوں کو غیر قانونی اور بلاجواز جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ "پاکستان ایرانی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔"ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ "اسرائیل نے تمام سرخ لکیریں عبور کر لی ہیں، اور عالمی برادری کو ان جرائم پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔"امریکی مندوب نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "اگر امریکی شہریوں یا اڈوں کو نشانہ بنایا گیا تو نتائج سنگین ہوں گے۔" انہوں نے اسرائیلی حملے کو دفاعی اقدام قرار دیا اور کہا کہ امریکا یہ یقینی بنائے گا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ امریکی نمائندے کے مطابق "ایرانی قیادت کیلئے اس وقت مذاکرات کرنا دانشمندانہ ہوگا۔"

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے اسرائیلی حملے کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ "جوہری تنصیبات پر حملے کے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔" ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے تصدیق کی کہ نطانز کے باہر ریڈیائی سطح معمول کے مطابق ہے اور ایجنسی ایران کے جوہری ریگولیٹری ادارے سے مسلسل رابطے میں ہے۔ادھر چین نے اسرائیل کی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔ اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو کونگ نے کہا کہ بیجنگ کو ایران کے جوہری مذاکرات پر پڑنے والے منفی اثرات پر شدید تشویش ہے۔چین نے مطالبہ کیا ہے کہ "اسرائیل فوری طور پر اپنی تمام فوجی کارروائیاں بند کرے تاکہ خطے میں کشیدگی مزید نہ بڑھے۔"