ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی طاقتیں میدان میں آ گئی ہیں۔
جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے اور صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے۔
ٹرمپ متحرک، عالمی رہنماؤں سے رابطے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے کئی عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں:سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔امیر قطر نے امریکی صدر سے رابطہ کرکے ایران اور اسرائیل کے درمیان فوری جنگ بندی کی اپیل کی اور کہا کہ قطر ثالثی کے لیے تیار ہے۔جاپانی وزیر اعظم سے بھی مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عرب ممالک کی تشویش
فلسطینی اور قطری رہنماؤں نے سعودی وزیر خارجہ سے بھی رابطہ کیا اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے تحفظ پر زور دیا۔عرب ممالک کی کوشش ہے کہ جنگ کا دائرہ وسیع نہ ہو اور فلسطینی عوام مزید متاثر نہ ہوں۔
روس کی ثالثی کی پیشکش
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران اور اسرائیل کو ثالثی کی پیشکش کر دی ہے۔پیوٹن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کرکے اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی اور کہا کہ روس جنگ کے بجائے سفارتی حل کا حامی ہے۔
ایرانی صدر کا ردعمل
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیلی حملوں کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور واضح کیا کہ:"ایران اسرائیلی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دے گا۔ ہمارا دفاعی حق بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہے۔"
عالمی سطح پر تشویش
دنیا بھر کے امن پسند حلقے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی ادارے فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔