ایران نے اسرائیل پر تیسرا میزائل حملہ کر دیا، ملک بھر میں ایمرجنسی الرٹس، شہری بم شیلٹرز میں محصور

ایران نے اسرائیل پر تیسرا میزائل حملہ کر دیا، ملک بھر میں ایمرجنسی الرٹس، شہری بم شیلٹرز میں محصور

مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعے کے دوران ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کا تیسرا بیراج بھی فائر کر دیا ہے۔

 اسرائیلی حکام نے میزائلوں کی بڑھتی ہوئی لہر کی تصدیق کرتے ہوئے ملک بھر میں ایمرجنسی سائرن بجا دیے ہیں، جبکہ شہریوں کو فوری طور پر بم شیلٹرز میں رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

تیسرا بیرج: درجنوں میزائل، مرکزی اور جنوبی اسرائیل ہدف
تازہ اطلاعات کے مطابق تیسرے میزائل بیراج میں درجنوں بیلسٹک میزائل شامل تھے، جن کا رخ اسرائیل کے وسطی اور جنوبی علاقوں کی طرف تھا۔ اسرائیلی ڈیفنس فورس (IDF) نے تصدیق کی ہے کہ میزائل ڈیفنس سسٹم نے میزائلوں کو ہوا میں شناخت کر کے انہیں راستے میں انٹرسیپٹ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔"ہم نے ایران کی طرف سے ایک اور بیلسٹک میزائل حملے کی شناخت کی ہے۔ ہمارے ایئر ڈیفنس یونٹس فعال ہو چکے ہیں، اور شہریوں کو بم پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔" — ترجمان، IDF
ملک بھر میں الرٹ، خوف کی فضا
اسرائیل کے کئی شہروں میں سائرن بجنے کی آوازوں کے بعد فضا میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ لاکھوں شہری ایک بار پھر بم شیلٹرز میں چلے گئے ہیں۔ ائیر ڈیفنس سسٹم کی سرگرمی نے بڑے پیمانے پر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی کوشش کی، تاہم کچھ میزائل اپنے ہدف کے قریب تک پہنچنے میں کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔

پس منظر: اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی جوابی کارروائیاں
یہ تیسرا ایرانی حملہ جمعہ کو اسرائیل کے ایران کی تین ایٹمی تنصیبات پر حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی حملوں میں اطلاعات کے مطابق کم از کم چھ نیوکلیئر سائنسدان اور اتنے ہی اہم فوجی کمانڈرز مارے گئے تھے۔اس کے ردعمل میں ایران نے ہفتے کی رات کو ہی اسرائیل پر 150 بیلسٹک میزائلوں کے دو بیراج فائر کیے تھے جن میں سے متعدد میزائلوں نے سویلین علاقوں کو نشانہ بنایا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

شہری خوف کا شکار، کشیدگی میں مسلسل اضافہ
رات گئے شروع ہونے والے تیسرے حملے کے بعد شہریوں میں شدید خوف کی فضا ہے۔ بم شیلٹرز میں موجود شہریوں کو فوری طور پر کسی بھی باہر نکلنے سے منع کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ جب تک مکمل کلیئرنس نہیں ملتی، شہری گھروں یا پناہ گاہوں سے نہ نکلیں۔

 تجزیہ: جنگ کے دائرہ کار میں توسیع کا خطرہ
یہ میزائل حملہ خطے میں تیسری بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی غزہ، لبنان اور یمن کے محاذوں پر کشیدگی جاری ہے، اور اب ایران و اسرائیل کی براہِ راست جھڑپ عالمی برادری کے لیے ایک خطرناک موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکہ کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں، لیکن زمینی حقائق بتا رہے ہیں کہ صورتحال بگڑنے کے راستے پر گامزن ہے۔