آج علی الصبح اسرائیل کے مرکزی شہر تل ابیب اور دیگر وسطی علاقوں میں فضائی حملے کے سائرن بجنے سے شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جب ایران کی جانب سے میزائل حملہ ڈیٹیکٹ کیا گیا۔
اسرائیلی دفاعی فورسز (IDF) کے مطابق یہ رات کے دوران دوسرا حملہ ہے، جو بڑھتے ہوئے علاقائی تناؤ کا اشارہ دے رہا ہے۔
حملے کی تفصیلات: میزائل فائر، سائرن، شیلٹرز کی ہدایت
پاکستانی وقت کے مطابق صبح 5:30 بجے
تل ابیب کے مقامی وقت کے مطابق: 3:31 صبح
ایرانی سرزمین سے میزائلوں کے لانچ کا ریڈار پر پتہ لگنے کے فوری بعد تل ابیب، ہولون، ریشون لتزیون، اور ہرتزلیا جیسے علاقوں میں فضائی حملے کے سائرن بجنا شروع ہو گئے۔
اسرائیلی حکومت نے تمام شہریوں کو فوری طور پر قریبی بم شیلٹرز میں پناہ لینے کی ہدایت جاری کر دی۔
???? IDF کا موقف اور ردعمل
آئی ڈی ایف (Israel Defense Forces) کے ترجمان نے تصدیق کی کہ:“ایران سے براہ راست میزائل فائر کیے گئے ہیں جنہیں ہمارے ائیر ڈیفنس سسٹمز نے ٹریک کیا۔ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور ردعمل تیار ہے۔”آئی ڈی ایف کے مطابق Iron Dome اور دیگر دفاعی نظام میزائلوں کو روکنے کے لیے متحرک ہو چکے ہیں۔ کچھ میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا گیا جبکہ دیگر کی نشاندہی جاری ہے۔
یہ حملہ کب اور کیوں اہم ہے؟
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب:ایران اور اسرائیل کے درمیان پچھلے 4 دنوں سے شدید کشیدگی جاری ہے۔ایران نے عرب ثالثوں کے ذریعے جنگ بندی کی پیشکش کی تھی بشرطیکہ اسرائیل حملے روکے۔اسرائیل نے ایران کے جوہری اور فوجی تنصیبات پر حالیہ حملے کیے تھے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج صبح تہران کے شہریوں کو "فوری انخلا" کی سوشل میڈیا پوسٹ میں تاکید کی تھی، جسے دنیا بھر میں ممکنہ بڑے حملے کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
شہریوں کی صورتحال اور ردعمل
تل ابیب سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق:رات کے وقت سائرن بجنے سے لوگ خوفزدہ ہو کر نیند سے جاگ اٹھے۔سڑکیں سنسان ہو گئیں اور ہزاروں لوگ بم شیلٹرز میں منتقل ہو گئے۔اسپتالوں اور ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔فی الحال جانی نقصان یا زخمیوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
عالمی ردعمل اور خدشات
اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے حکام نے فوری جنگ بندی پر زور دیا ہے۔ خلیجی ریاستیں، خاص طور پر قطر، عمان، اور سعودی عرب، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے حملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:"مزید فوجی کارروائی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے۔"