ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران ایرانی دارالحکومت تہران پر ایک بار پھر شدید فضائی حملے کیے گئے ہیں، جنہیں جنگ کے آغاز کے بعد کی سب سے طاقتور بمباری قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق تہران کے مشرقی، جنوبی اور مغربی علاقے حملوں میں نشانہ بنائے گئے، اور دھماکوں کی شدت سے قریبی عمارتوں کی کھڑکیاں لرز اٹھیں۔ایران کے شہر کرج میں حملوں کے نتیجے میں بجلی کے نظام کے کچھ حصے متاثر ہوئے۔اصفہان میں گورنر ہاؤس اور ایک یونیسکو عالمی ثقافتی ورثے کا مقام بھی نشانہ بنایا گیا۔تہران کے علاقے رسالت اسکوائر کے قریب ہونے والے حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے۔جنگ کے آغاز سے اب تک ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 1300 سے تجاوز کر چکی ہے، جسے انتہائی تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی فوجی کارروائیاں:
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج ایرانی میزائل لانچرز کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔سینٹکام نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ ایرانی میزائل لانچرز کی تلاش جاری رکھیں گے اور موقع ملتے ہی انہیں تباہ کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان:
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی ہے اور امریکا اس تنازع میں فیصلہ کن کامیابی کے لیے پُرعزم ہے۔ان کے مطابق امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی بڑی حد تک فوجی صلاحیت متاثر ہو چکی ہے۔ری پبلکن ارکان سے خطاب میں انہوں نے کہا:"اگر امریکا بروقت کارروائی نہ کرتا تو ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ سکتا تھا۔ حالیہ حملوں کے بعد ایران کی تقریباً 90 فیصد جنگی صلاحیت ختم ہو گئی ہے، اور اس وقت اس کے پاس مؤثر فضائیہ، بحریہ یا مضبوط مواصلاتی نظام موجود نہیں ہے۔"
حالیہ صورتحال کی اہم نکات:
یہ حملے ایران میں اب تک کی سب سے زیادہ تباہ کن فضائی کارروائی میں شامل ہیں۔تہران اور اصفہان میں شہری علاقوں، حکومتی دفاتر اور تاریخی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
جنگ کے اثرات کے باعث ایران میں انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔