ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ 22 جون کو کیے گئے امریکی فضائی حملے میں ایران کی حساس جوہری تنصیب فردو کو "شدید اور سنگین نقصان" پہنچا ہے۔
ایران کی ابتدائی تردید، اب تسلیم شدہ حقیقت
عباس عراقچی کے اس بیان سے قبل ایرانی حکومت نے امریکی حملوں کو "عالمی قوانین کی خلاف ورزی" اور "ایران کی خودمختاری پر حملہ" قرار دیتے ہوئے ان کے اثرات کو "معمولی" ظاہر کیا تھا۔ تاہم اب انہوں نے واضح کیا ہے کہ:"ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم (AEOI) مکمل تخمینہ لگا رہی ہے کہ فردو اور دیگر تنصیبات کو کتنا نقصان پہنچا ہے، اور یہ رپورٹ جلد ہی حکومت کو پیش کر دی جائے گی۔"
حملے کی تفصیلات
امریکہ نے 22 جون کو ایران کی تین کلیدی جوہری تنصیبات —
فردو (Fordo)
نطنز (Natanz)
اصفہان (Isfahan)
— پر اعلٰی سطح کے فضائی حملے کیے تھے، جن کا مقصد ایران کی ممکنہ جوہری ہتھیار سازی کی کوششوں کو روکنا تھا۔
امریکی مؤقف
اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا:"ہم نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو کامیابی سے غیر مؤثر کر دیا ہے، خصوصاً فردو تنصیب کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔"تاہم امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق:نطنز اور اصفہان پر حملوں سے جزوی نقصان ہوا ہے۔ایران کا بنیادی نیوکلیئر مواد مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا۔فردو پر شدید نقصان کے باوجود تکنیکی ڈیٹا کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے۔
IAEA سے تعاون معطل
اس پیش رفت کے بعد ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ اپنا معائنہ جاتی تعاون معطل کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ایران نے IAEA کو کسی بھی معائنے کی اجازت نہیں دی۔اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے کہا:"ایران اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔"
خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ
یہ فضائی حملے اور ایران کی جانب سے ان کا تسلیم کیا جانا مشرق وسطیٰ میں پہلے سے جاری کشیدگی کو مزید شدت کی طرف لے جا رہا ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق:ایران جوابی کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔اسرائیل اور خلیجی اتحادی ممالک ہائی الرٹ پر ہیں۔امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست محاذ آرائی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
عالمی ردعمل
روس اور چین نے امریکی کارروائی کی مذمت کی ہے اور اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف قرار دیا ہے۔یورپی یونین نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور IAEA کے ساتھ دوبارہ تعاون شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک نے ایران کی خودمختاری پر حملے پر تشویش ظاہر کی ہے۔