خطرہ وقتی طور پر کم، شہری بم پناہ گاہیں چھوڑ سکتے ہیں: اسرائیلی فوج

خطرہ وقتی طور پر کم، شہری بم پناہ گاہیں چھوڑ سکتے ہیں: اسرائیلی فوج

ایران کے میزائل حملے کے بعد شہریوں کو بم شیلٹرز سے نکلنے کی مشروط اجازت
 مقام: یروشلم / تل ابیب
 تاریخ: 14 جون 2025
ذرائع: آئی ڈی ایف، ہوم فرنٹ کمانڈ، اسرائیلی میڈیا رپورٹس

  تازہ پیش رفت:
ایران کی جانب سے اسرائیلی شہروں پر فائر کیے گئے دوسرے بیلسٹک میزائل بیراج کو اسرائیلی ائیر ڈیفنس سسٹمز کی مدد سے کامیابی سے انٹرسیپٹ کیے جانے کے بعد، اسرائیلی فوج (IDF) نے شہریوں کو بم شیلٹرز سے نکلنے کی اجازت دے دی ہے۔تاہم، ہوم فرنٹ کمانڈ نے واضح کیا ہے کہ:"شہری اپنے بم پناہ گاہوں سے باہر نکل سکتے ہیں، لیکن انہیں اگلی اطلاع تک ان کے قریب ہی رہنا چاہیے۔"
  فضائی دفاع کا ردعمل:
ایران کی جانب سے کیے گئے دوسرے میزائل حملے میں درجنوں بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے، جنہیں اسرائیلی فضائی دفاع — آئرن ڈوم اور THAAD سسٹمز — نے بڑی حد تک راستے میں تباہ کر دیا۔اس کامیاب دفاعی کارروائی کے بعد اسرائیلی حکام نے شہریوں کے لیے جزوی نرمی کا اعلان کیا، لیکن ساتھ ہی مزید حملوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

  ہنگامی ہدایات برقرار:
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بم شیلٹرز کے قریب رہیں
عوامی اجتماعات اور اسکولوں پر تاحکمِ ثانی پابندی برقرار
اسپتالوں اور ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے
  سرکاری بیان:
IDF کے ترجمان نے کہا:"ہم نے خطرے کی شدت کو وقتی طور پر کم کر دیا ہے، لیکن ایران کی جانب سے مزید بیراجز خارج از امکان نہیں۔ شہریوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ ہوشیار رہیں اور ہوم فرنٹ کمانڈ کی تازہ ترین ہدایات پر عمل کریں۔"

  علاقائی تناؤ بدستور جاری:
اسرائیل کے فوجی ذرائع کے مطابق، اگر ایران کی جانب سے تیسری لہر آتی ہے تو فوری اور فیصلہ کن جوابی کارروائی کی جائے گی۔ایران کی طرف سے فی الحال کوئی نئی لہر رپورٹ نہیں ہوئی، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے
  تجزیہ:
شہریوں کو بم شیلٹرز سے باہر نکلنے کی مشروط اجازت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اسرائیل عارضی طور پر صورتحال کو قابو میں سمجھ رہا ہے، مگر مکمل اطمینان کی فضا تاحال قائم نہیں ہو سکی۔
خطے میں کشیدگی بدستور جاری ہے اور ہر گزرتا لمحہ ایک نئے مرحلے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔