واشنگٹن: امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں نئے فوجداری ضابطے کے تحت تشدد اور خوف کو ریاستی پالیسی بنایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نئے قانون کے بعد افغان خواتین اور پناہ گزین شدید خطرات میں ہیں، کیونکہ طالبان نے فوجداری ایکٹ میں جبر اور سزا کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ضابطہ افغانستان کو شدت پسندوں کے لیے محفوظ بنانے کے ساتھ انسانی حقوق کے خلاف کھلا اعلان ہے۔واضح رہے کہ حال ہی میں عالمی جریدے یوریشیا ریویو نے بھی پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے افغان طالبان کو عالمی سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ افغانستان میں القاعدہ، ٹی ٹی پی اور 20 سے زائد دیگر دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔