آئی ڈی ایف نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل پر ایران کا بڑا میزائل حملہ ہو رہا ہے۔ آئی ڈی ایف کے مطابق ایران نے درجنوں بیلسٹک میزائلوں کا دوسرا بیراج اسرائیل کی طرف لانچ کیا ہے۔
ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ – IDF کی تصدیق
تاریخ: 14 جون 2025
مقام: اسرائیل و ایران
ذرائع: اسرائیلی دفاعی فورس (IDF) اور مقامی اسرائیلی میڈیا
تازہ ترین صورتحال:
اسرائیلی دفاعی فورس (IDF) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی طرف سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کا ایک اور بیراج داغا گیا ہے۔یہ حملہ درجنوں میزائلوں پر مشتمل ہے اور اسے "دوسرا بیراج" کہا جا رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ پہلا حملہ نہیں بلکہ ایک تسلسل ہے۔IDF نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بم شیلٹرز (پناہ گاہوں) میں رہیں کیونکہ فضائی دفاعی نظام خطرات کو کم کرنے میں مصروف ہے۔
ائیر ڈیفنس سسٹمز کی سرگرمی:
آئرن ڈوم (Iron Dome) اور حالیہ تنصیب شدہ تھیڈ (THAAD) ائیر ڈیفنس سسٹم دونوں فعال ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ تھیڈ سسٹم کی عملی آزمائش ہو رہی ہے، جو کہ امریکا سے ماہرین کے ہمراہ چند ماہ قبل اسرائیل منتقل کیا گیا تھا۔پچھلے ایرانی حملے میں سینکڑوں میزائل فائر کیے گئے تھے، جن میں سے بیشتر کو آئرن ڈوم اور دیگر دفاعی نظاموں نے فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا تھا۔
پس منظر:
اپریل 2025 میں، ایران نے ایک بڑا میزائل حملہ کیا تھا جس کے جواب میں اسرائیل نے ایران کے اندر کئی تنصیبات پر فضائی حملے کیے تھے۔اس وقت سے خطے میں جنگی تیاریوں میں اضافہ دیکھا گیا، جس میں اسرائیل کی طرف سے امریکی مدد کے ساتھ دفاعی نظام کی اپ گریڈیشن شامل تھی۔
ممکنہ اثرات اور خطرات:
علاقائی جنگ کا خدشہ بڑھ چکا ہے، خاص طور پر اگر اسرائیل اس حملے کے جواب میں دوبارہ ایران پر حملہ کرتا ہے۔لبنان، شام، یمن اور دیگر پراکسی گروپس کی ممکنہ مداخلت بھی صورتحال کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔عالمی سطح پر امریکا، روس، چین اور یورپی یونین کی نظریں اس تنازع پر لگی ہوئی ہیں، اور کسی بھی بڑے قدم پر بین الاقوامی ردعمل کا امکان ہے۔
اب کیا ہو گا؟
اگلے چند گھنٹے انتہائی اہم اور فیصلہ کن ہوں گے۔اگر میزائل حملے سے بڑا جانی یا عسکری نقصان ہوتا ہے تو اسرائیل کی طرف سے فوری جوابی کارروائی کی توقع ہے۔اقوام متحدہ یا دیگر عالمی ادارے ممکنہ طور پر ہنگامی اجلاس بلا سکتے ہیں۔