ایران کا اسرائیل پر شدید جوابی حملہ: میزائلوں کی بارش، تل ابیب ہدف، 4 ہلاک، 60 سے زائد زخمی

ایران کا اسرائیل پر شدید جوابی حملہ: میزائلوں کی بارش، تل ابیب ہدف، 4 ہلاک، 60 سے زائد زخمی

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایران نے "وعدۂ صادق سوم" آپریشن کے تحت پانچویں مرحلے میں اسرائیل پر شدید میزائل حملے کیے، جن کے نتیجے میں کئی عمارتیں مکمل تباہ ہو گئیں، کم از کم 4 افراد ہلاک جبکہ 60 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

اہم تفصیلات:
ایران نے پانچویں مرحلے میں کئی بیلسٹک میزائل داغے۔
تل ابیب میں اسرائیل کے جوہری تحقیقاتی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔
یروشلم اور مقبوضہ بیت المقدس میں بھی زور دار دھماکے سنے گئے۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کی عمارت کے قریب آگ بھڑک اٹھی، متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
آئرن ڈوم دفاعی نظام میزائلوں کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام رہا۔
فوجی و شہری تنصیبات کو شدید نقصان
ایرانی میزائلوں نے اسرائیلی فوجی ہیڈکوارٹر کو تباہ کر دیا، جب کہ تل ابیب میں ایک فوجی اڈے پر بھی حملہ کیا گیا۔ مختلف حملوں سے بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا اور ہزاروں اسرائیلی شہری بنکروں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔

پہلے تین مراحل میں میزائلوں کی تعداد:
پہلا مرحلہ: 100 میزائل
دوسرا مرحلہ: 50 میزائل
تیسرا مرحلہ: 50 میزائل
اب پانچواں مرحلہ جاری ہے، جس میں درجنوں میزائل تل ابیب اور دیگر حساس مقامات پر داغے گئے۔
ایرانی دعوے اور اسرائیلی تردید
ایرانی سرکاری میڈیا نے اسرائیل کے 2 ایف-35 طیارے مار گرانے اور ایک خاتون پائلٹ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے، جس کی اسرائیلی حکام نے تردید کی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں اسرائیلی جارحیت کے ردعمل میں ہیں، جس میں ایران کے جوہری سائنسدانوں اور سینئر فوجی کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

 
علاقائی اور عالمی صورتحال مزید سنگین
اس حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے حملوں کے جواب میں "شدید ردعمل" کی دھمکی دی ہے، جب کہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں صورتحال کو پُرامن بنانے کی اپیلیں کر رہی ہیں۔